ترکیہ میں انسانیت سوز واقعہ، شامی خواتین اور بچوں پر تشدد، بس سے باہر نکال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ میں شامی پناہ گزینوں کے خلاف نسل پرستانہ واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تعصب پر مبنی ایک اور دردناک واقعہ سامنے آگیا۔ اس انسانیت سوز واقعہ کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی تو بڑی تعداد میں لوگوں نے خاتون اور بچوں سے اظہار ہمدردی کیا۔

ترک اخبار "صباح" کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرتی دیڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تین شامی خواتین کو ترکیہ کے تیسرے بڑے شہر ازمیر میں ایک بس کے اندر جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس نے بدتمیزی کی گئی۔

ویڈیو میں دکھایا گیا کہ 3 شامی خواتین اپنے بچوں کے ساتھ ایک پبلک بس میں سوار تھیں۔ مار پیٹ اور تشدد کے بعد ان کے لیے نسل پرستانہ زبان استعمال کی گئی۔ کچھ مسافروں نے ان کے لیے توہین آمیز کلمات استعمال کئے۔ یہی نہیں خواتین اور ان کے بچوں کو بس سے نکالے جانے کے بعد مسافروں نے خوشی اور مسرت کے نعرے لگائے۔

ویڈیو نے سوشل میڈیا پر غصے کی لہر دوڑا دی۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ یہ واقعہ حزب اختلاف کی ریپبلکن پیپلز پارٹی کے سب سے اہم گڑھ میں پیش آیا تھا۔

حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے قریبی مصنف ایلف شاہین نے ویڈیو پر تبصرہ کیا اور کہا مظلوم کی فریاد اور خدا کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ کیا آپ کو اس ماں سے شرم نہیں آتی جو آنسو بہاتی ہے؟ اس کو گھسیٹا جا رہا ہے اور ان کے بچے کو خوف زدہ نظروں سے آپ کو دیکھ رہے ہیں۔ کیا آپ قانون سے نہیں ڈرتے؟

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں