اسرائیل کا غزہ کے شہریوں کو امریکا کے ویزہ فری پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی سے امریکی شہریت رکھنے والے فلسطینیوں کے سفر کی سہولت دینے کی منظوری دی ہے۔ یہ سہولت ایک معاہدے کی حتمی تیاریوں کا حصہ ہےجس کا مقصد اسرائیلیوں کو بغیر ویزا کے امریکا میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔

امریکی شہریت امریکن ویزا فری پروگرام میں شامل ہونے کی شرط ہے، اس لیے اسرائیل نے 20 جولائی سے اپنی سرحدوں میں داخلے کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے سے ان تمام فلسطینیوں کے لیے داخلے اور اخراج کا آغاز کر دیا ہے جو ایک مدت سے امریکی شہریت رکھتے ہیں۔ تاہم فی الحال یہ آمد واخراج آزمائشی ہے۔

اسرائیل کے لیے امریکی شرائط کی تعمیل ثابت کرنے کی آخری تاریخ 30 ستمبر ہے۔ اگر کامیاب ہو جاتی ہے تو توقع ہے کہ وہ نومبر تک امریکا میں ویزا فری انٹری پروگرام میں شامل ہو جائیں گے۔

یہ اقدام فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی پالیسیوں اور بنجمن نیتن یاھو کی طرف سے متنازع عدالتی اصلاحات پر دونوں طرف پیدا ہونے والی تلخی کو کم کرنے کا ایک موقع ثابت ہوگا۔

حماس کے زیر کنٹرول غزہ کی پٹی کو آزمائشی مدت سے باہر رکھا گیا۔ غزہ کے اخراج نے فلسطینی امریکیوں کے احتجاج کو جنم دیا اور واشنگٹن سے اس اقدام میں ترمیم کا مطالبہ کیا۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ پیر سے شروع ہونے والے فلسطینی نژاد امریکیوں کو جو غزہ میں رہتے ہیں اور ان سے سکیورٹی کو خطرہ نہیں ہے انہیں B2 سیاحتی ویزوں پر اسرائیل میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ اس سے ان کے ہوائی اڈوں سے پروازیں لینے کا راستہ کھل سکے گا۔

اسرائیل نے پہلے کہا تھا کہ وہ غزہ میں مقیم فلسطینی امریکیوں کو 15 ستمبر کو پروگرام میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جن کی تعداد 100 سے 130 کے درمیان ہے، لیکن وہ اس تاریخ کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گا۔

یروشلم میں امریکی سفارت خانے نے اس پیش رفت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

آزمائشی مدت کے ایک حصے کے طور پراسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی فلسطینی نژاد امریکیوں کو غزہ سے خصوصی بسوں میں اردن جانے کی اجازت دے رہا ہے، جہاں سے وہ وہاں سے سفر کر سکتے ہیں۔

نئی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ بیرون ملک سے فلسطینی نژاد امریکیوں کو، جن کے غزہ میں درجہ اول کے رشتہ دار رہتے ہیں، کو زیادہ سے زیادہ 90 دنوں کے لیے سالانہ ایک دورہ کرنے کی اجازت دےگا۔

فلسطینی اور امریکی حکام کا اندازہ ہے کہ غزہ میں دوہری شہریت رکھنے والوں کی تعداد کئی سو ہے۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے متضاد تعداد کے جواب میں کہا کہ ان میں سے زیادہ تر غزہ میں مستقل طور پر نہیں رہتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں