ایران پرامید ۔۔ ہماری رقم ملنے والی ہے، جو چاہیں خریدیں گے

منجمد اثاثوں میں سے چھ بلین ڈالر ایران منتقل کرنے کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے بین الاقوامی بینکوں کو چھ بلین ڈالر کی منجمد ایرانی رقم کو کسی پابندی یا خوف کے بغیر جنوبی کوریا سے قطر منتقل کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیے جانے کے ساتھ ہی ایران میں زیر حراست پانچ امریکی شہریوں کی رہائی کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے۔

اس معاہدے کے تحت بائیڈن انتظامیہ امریکہ میں زیر حراست پانچ ایرانی شہریوں کو بھی رہا کرنے پر رضامند ہے۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ایک ماہ قبل ہی اصولی طور پر اتفاق رائے ہو جانے کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اس دستاویز پر گزشتہ ہفتے دستخط کر دیے تھے۔ لیکن پیر کے روز تک امریکی کانگریس کو اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

معاہدے کے خاکے کا اعلان گو کہ پہلے ہی کیا جا چکا تھا اور یہ نوٹیفیکیشن متوقع بھی تھا تاہم اس میں پہلی مرتبہ بائیڈن انتظامیہ نے کہا کہ وہ معاہدے کے مطابق پانچ ایرانی قیدیوں کو رہا کر رہی ہے۔ قیدیوں کے نام ابھی نہیں بتائے گئے ہیں۔

اس فیصلے پر ریپبلیکنز اور دیگر کئی دیگر حلقوں نے تنقید کی ہے، جن کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایسے وقت میں ایرانی معیشت کو تقویت فراہم کرے گا جب وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں اور اتحاد کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔

وضاحتی امیج
وضاحتی امیج

آئیوا کے سینیٹر چک گراسلے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، "یہ امریکہ کے لیے مضحکہ خیز ہے کہ اسے یرغمالیوں کے لیے چھ بلین ڈالر ادا کرنے پر بلیک میل کیا جائے، اس سے ایران کی خارجہ پالیسی اور دہشت گردی کو بالواسطہ طور پر مالی مدد ملے گی۔"

ارکنساس کے سینیٹر ٹام کاٹن نے صدر بائیڈن پر الزام لگایا، "دنیا کی بدترین دہشت گرد ریاست کو تاوان ادا کیا جا رہا ہے۔"

اس معاہدے کی رو سے یورپی، مشرقی وسطیٰ اور ایشیائی بینکوں کی جانب سے جنوبی کوریا میں منجمد رقم کو تبدیل کرنے اور اسے قطر کے مرکزی بینک میں منتقل کرنے کو اب امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں سمجھا جائے گا۔ ایران اس رقم کو بنیادی ضروریات زندگی کی اشیاء خریدنے کے لیے استعمال کرے گا۔

انٹونی بلنکن نے کہا کہ جنوبی کوریا میں منجمد کیے جانے والے ایرانی اثاثوں سے تقریباً چھ بلین ڈالر کی رقم قطر کے مخصوص کھاتوں میں منتقل کرنے کی اجازت دی ہےانٹونی بلنکن نے کہا کہ جنوبی کوریا میں منجمد کیے جانے والے ایرانی اثاثوں سے تقریباً چھ بلین ڈالر کی رقم قطر کے مخصوص کھاتوں میں منتقل کرنے کی اجازت دی ہے

ایران میں قید امریکیوں میں سے ایک قیدی کے وکیل نے بتایا کہ ایران نے چار زیر حراست امریکی شہریوں کو تہران کی اوین جیل سے گھر میں نظر بند رہنے کی اجازت دے دی ہے جب کہ پانچواں قیدی پہلے ہی سے گھر میں نظر بند ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد کو اگلے ہفتے کے اوائل میں رہا کر دیا جائے گا۔

دوسری طرف ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ امریکی قیدیوں کی رہائی میں دو ماہ لگ سکتے ہیں۔کنعانی کے بقول، ''متعلقہ حکام کی طرف سے ایک مخصوص ٹائم فریم کا اعلان کیا گیا ہے اور اس عمل کو مکمل ہونے میں زیادہ سے زیادہ دو مہینے لگ سکتے ہیں۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا، ''ان(امریکی قیدیوں)کی رہائی کو آسان بنانے کے لیے ہم نے اس وقت امریکہ میں موجود پانچ ایرانی شہریوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور جنوبی کوریا میں منجمد کیے جانے والے ایرانی اثاثوں سے تقریباً چھ بلین ڈالر کی رقم قطر کے مخصوص کھاتوں میں منتقل کرنے کی اجازت دی ہے۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں