سعودی عرب میں میڈیا کے لیے نئے ادارے کے قیام کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی وزارتی کونسل [کابینہ] نے کل مُنگل کو اپنے اجلاس کے دوران جنرل اتھارٹی فار میڈیا ریگولیشن کی ایک نئی تنظیم کی منظوری دی۔ یہ تنظیم مملکت میں میڈیا کے کردار اور اس کی سرگرمیوں کی توسیع ہے۔

یہ نئی تنظیم تمام قسم کے بصری، آڈیو اور پرنٹ میڈیا، افراد، کمپنیوں اور اداروں کی اشتہاری سرگرمیوں کی نگرانی اور کنٹرول کے ساتھ ساتھ میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں ہر قسم کے تمام ڈیجیٹل میڈیا مواد کی ذمہ دار اتھارٹی کا کردار ادا کرےگی۔

جنرل اتھارٹی فار میڈیا ریگولیشن آڈیو ویژول میڈیا اتھارٹی کا متبادل ہے، جو 2012ء میں قائم کی گئی تھی۔یہ مالی اور انتظامی طور پر ایک خود مختار ادارہ ہوگا جو تنظیمی طور پر وزارت اطلاعات ونشریات سے منسلک ہوگا۔

اس حوالے سے سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد مقامی طور پر تیار کردہ مواد کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ مکمل طور پر اتھارٹی کی چھتری کے نیچے ہوگا، اور اس کا مقصد میڈیا کے مختلف شعبوں کے ذریعے ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کو سپورٹ کرنا، قومی کمپنیوں کو بااختیار بنانے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے سرمایہ کاری کا ماحول پیدا کرکے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

الدوسری نےکہا کہ میڈیا کے شعبے میں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اپنائے گئے جدید ترین رجحانات اور بہترین طرز عمل کو اپنایا جائے گا، جو قومی معیشت کے ذرائع کو متنوع بنا کر "وژن 2030" کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوں گے۔

یہ پیش رفت"میڈیا سیکٹر کی ترقی اور انتظامی نگرانی، انفراسٹرکچر اور میڈیا کے مواد کو سپورٹ اور اپ گریڈ کرنے سے متعلق ہے۔ یہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر کے ملکی پیداوار میں میڈیا کی معیشت کے تعاون کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرے گی‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں