شام اور اسد

شام کے شہر السُّوَيدَاء میں حکومت مخالف مظاہرین پر فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے جنوبی شہرالسُّوَيدَاء میں بدھ کے روز حکومت مخالف مظاہرین پر گولیاں چلائی گئی ہیں۔ کارکنوں اور مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ شہر میں گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری مظاہروں میں تشدد کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

مظاہرین صدر بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے تھے۔ان کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والے ان کارکنوں نے حکمراں بعث پارٹی کے ارکان پر فائرنگ کا الزام عاید کیا ہے۔ تاہم آزاد ذرائع اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

السُّوَيدَاء24 ایکٹوسٹ گروپ کی جانب سے آن لائن پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو درجن کے قریب گولیوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جس کے بعد لوگ ایک عمارت کے داخلی دروازے سے نکل کر بھاگ رہے ہیں۔

کیپشن میں اس عمارت کی نشان دہی بعث پارٹی کے مقامی ہیڈکوارٹر کے طورپر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ مظاہرین اسے بند کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مظاہرین نے اگست کے آخر میں اسے عارضی طور پرزبردستی بند کردیا تھا۔

السُّوَيدَاء 24 نے بتایا کہ فائرنگ سے تین افراد زخمی ہوئے ہیں اور اسپتالوں میں زیرِعلاج ہیں۔واضح رہے کہ شام میں 2011 میں ملک کے جنوب میں صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاجی ریلیوں کے ساتھ تنازع شروع ہوا تھا اور جلد ہی ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہو گیا تھا جس میں لاکھوں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

بشارالاسد نے اپنے اتحادیوں روس اور ایران کی مدد سے ملک کے بیشتر حصوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور اب بیشتر محاذ جنگ خاموش ہوچکے ہیں لیکن اس کے باوجود ملک کی معیشت سست روی کا شکار ہے۔اس کے باوجود بشارالاسد کے زیر قبضہ علاقوں میں حکومت پر کھلی تنقید شاذ ہی ہوتی تھی لیکن حکومت کی جانب سے گذشتہ ماہ ایندھن پرزرتلافی ختم کرنے کے فیصلے نے السُّوَيدَاء میں نئے مظاہروں کو جنم دیا ہے اور مظاہرین اب بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں