عین الحلوہ کیمپ میں جھڑپیں جاری، حماس کی مفاہمت کے لیے ثالثی کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان میں قائم فلسطینی پناہ گزین کیمپ عین الحلوہ میں فلسطینی دھڑوں کے درمیان مسلح جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔ دوسری طرف حماس نے متحارب گروپوں کے درمیان مفاہمت کی کوشش شروع کی ہے۔

حماس کے ایک سینیر رہنما منگل کے روز بیروت پہنچے تاکہ لبنان کے سب سے بڑے فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں جھڑپوں کو ختم کرنے پر زور دیا جا سکے۔ کیمپ میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی روک تھام کے لیے کئی بارمعاہدے بھی ہوئے ہیں مگر جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔

طبی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق جنوبی ساحلی شہر صیدا کے قریب عین الحلوہ مہاجر کیمپ میں کئی دنوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

نامعلوم سمت سے آنے والی گولیوں ملک کے تیسرے سب سے بڑے شہر میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پیر کے روز کیمپ کے قریب چوکیوں پر فائرنگ سے پانچ لبنانی فوجی زخمی ہوئے۔

لبنان کے پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ کی جانب سے حریف فلسطینی دھڑوں کے عہدیداروں سے ملاقات کے بعد پیر کے آخر میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔

حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تحریک کے سینیر عہدیدار موسیٰ ابو مرزوق لبنانی حکام اور فلسطینی دھڑوں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے تاکہ جھڑپوں کے خاتمے کے لیے کسی سمجھوتے تک پہنچنے کی کوشش کی جا سکے۔

غور طلب ہے کہ کیمپ میں اپنے ایک رہ نما کی ہلاکت کے پس منظر میں شدت پسند دھڑوں اور فتح تحریک کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں حماس ملوث نہیں تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں