اسرائیل نے امریکی اور یورپی فلسطینیوں کے درمیان مساوات کو مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تل ابیب کے سیاسی ذرائع نے بدھ کے روز انکشاف کیا ہے کہ یورپی یونین کے ممالک، کینیڈا اور آسٹریلیا نے اسرائیل سے درخواست کی ہے کہ وہ فلسطینی جو یورپی شہریت کے حامل ہیں انہیں بغیر کسی پابندی کے فلسطینی نژاد امریکیوں کی طرح اسرائیل میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے ، لیکن اسرائیل نے اسے سختی سے مسترد کر دیا۔

بن گوریون ہوائی اڈے پر مسافر
بن گوریون ہوائی اڈے پر مسافر

ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے قریبی اخبار "اسرائیل ہیوم" کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق فلسطینی نژاد امریکیوں کے اسرائیل میں بغیر کسی پابندی کے داخلے کی اجازت ملنے کے بعد یورپی ممالک کے سفیروں نے حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی وزارت خارجہ سے رجوع کرتے ہوئے کہا تھا کہ تل ابیب فلسطینی نژاد یورپی شہریوں کو بین گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے اور دیگر بین الاقوامی زمینی اور سمندری گزرگاہوں سے بھی بغیر کسی رکاوٹ کے داخل ہونے کی اجازت دے۔

اخبار نے لکھا کہ اس درخواست کا مطلب ہے کہ "دسیوں ہزار فلسطینی بغیر کسی پابندی کے اسرائیل پہنچ سکتے ہیں۔" رپورٹ کے مطابق یورپی فلسطینیوں کو اسرائیل میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کے پیچھے اسرائیلی سکیورٹی اداروں کا ہاتھ ہے۔ یہ ادارے سمجھتے ہیں کہ امریکی سکیورٹی اداروں کی طرح یورپی سکیورٹی ادارے مضبوط نہیں۔ نہیں یورپی ملکوں میں موجود فلسطینی زیادہ شدت پسند ہیں۔ اس لیے یہ ایک مہم جوئی ہو گی جس کے نتائج کا پیشگی اندازہ لگانا مشکل ہے۔

اخبار نے کہا کہ اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس درخواست کا یہ کہہ کر جواب دیا کہ اس آپشن پر "غور نہیں کیا جا سکتا" انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی جنرل سکیورٹی سروس (شن بیٹ) فلسطینیوں کو دی جانے والی "سہولیات" کے دائرے کو بڑھانے سے انکار کرتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی حکومت نے امریکا کی سخت شرائط کے جواب میں فلسطینی نژاد امریکیوں کے اسرائیل میں داخلے پر رضامندی ظاہر کی تھی تاکہ بدلے میں اسرائیلی بغیر ویزے کے امریکہ میں داخل ہو سکیں۔ اس کے لیے ایک آزمائشی مدت مقرر کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں