عالمی عمودی کاشت کاری شو: ای ڈی بی نے زرعی ٹیک مالیاتی پروگرام کا آغاز کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

متحدہ عرب امارات کی اقتصادی ترقی اور صنعتی پیش رفت کا کلیدی مالیاتی انجن اماراتی ترقیاتی بینک (ای ڈی بی) چوتھے عالمی عمودی کاشت کاری شو جی وی ایف 2023 دبئی میں اپنے جدید مالیاتی سلوشنز اور بیسپوک زرعی ٹیک قرض پروگرام کی نمائش کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی وماحولیات کی زیرِ سرپرستی بدھ کو شروع ہونے والا دو روزہ عالمی شو نے عمودی کاشتکاری کے تمام شرکاء کو مجتمع کیا ہے تاکہ وہ ملیں، اپنی تازہ ترین اختراعات کی نمائش کریں اور علم میں اضافہ کرنے والے سیشنز اور کانفرنسوں میں مشغول ہو سکیں۔

ای ڈی بی کا زرعی ٹیک قرض پروگرام متحدہ عرب امارات میں اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ جو فارم، مقامی کاشتکار اور خوراک کے فراہم کنندگان اس اہم شعبے کی پیداواری صلاحیت اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہیں، ان کو سرمایہ کاری کی پیشکش کر کے مقامی زرعی شعبے کو جدید کاری کے قابل بنایا جائے۔ یہ پروگرام گرین اور براؤن فیلڈ پروجیکٹ سرمایہ کاری، سرمایہ اخراجات (سی اے پی ای ایکس) اور کام کے لیے درکار سرمایہ، اور درمیانی مدت کے قرضے یا درکار سرمائے کی $1.36 ملین تک کی رقم مسابقتی شرح اور 10 سال کی طویل مدت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔

اماراتی ترقیاتی بینک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد النقبی نے کہا: "خوراک کا تحفظ آبادی کی طویل مدتی صحت اور بہبود کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور قومی ترقی کے ایجنڈے میں اولین ترجیح ہے۔ یو اے ای ترقیاتی بینک کے طور پر ہم زرعی ٹیکنالوجی کی سرمایہ کاری کو چلانے کے لیے رقم فراہم کرتے ہیں اور ہم نے ملک کے غذائی تحفظ کے اہم شعبے کے لیے مالی معاونت کی مد میں سو ملین درہم مختص کیے ہیں۔ ہمارا مقصد خوراک کی خود کفالت کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا اور متحدہ عرب امارات کو مقامی خوراک کی پیداوار کے لیے ایک علاقائی مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔

النقبی نے مزید کہا: "ای ڈی بی کے جدید فنانسنگ سلوشنز اور زرعی ٹیک قرض پروگرام کے ذریعے ہم ملک کی عمودی کاشتکاری مارکیٹ کی ترقی اور زرعی ٹیکنالوجی کے اقدامات کی حمایت کریں گے جو ملک کی غذائی تحفظ اسٹریٹجی 2051 کے مطابق فوڈ سپلائی چین کو مقامی بنانے میں مدد کرتے ہیں۔"

متحدہ عرب امارات درونِ خانہ عمودی فارموں کا ایک علاقائی سرخیل بن گیا ہے جس نے کئی سرکردہ عمودی فارمنگ کمپنیوں کو امارات میں سرمایہ کاری اور کام کرنے کی طرف راغب کیا ہے۔ پانی کے کم استعمال، کیڑے مار دوا کی ضرورت نہ ہونے اور چھوٹی جگہوں کے علاوہ بجلی کی کم قیمتیں اور حکومتی اور نجی شعبوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کی خواہش متحدہ عرب امارات کی ایک مثالی عمودی کاشتکاری کی مارکیٹ کی کشش میں اضافہ کرتی ہے۔ مارکیٹ ریسرچ نے پیش گوئی کی ہے کہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں عمودی کاشتکاری کی مارکیٹ 2029 تک تقریباً 5 بلین ڈالر کی ہو جائے گی۔

جی وی ایف 2023 میں ای ڈی بی کی شرکت کی ایک اور خاص بات ابوظہبی تحفظِ خوراک و زراعت اتھارٹی کے اسپاٹ لائٹ سیشن میں حصہ لینا تھا تاکہ عمودی کاشتکاری کے لیے فنڈنگ اور سرمایہ کاری کے مواقع پر بات کی جائے۔

ای ڈی بی میں ایم ایس ایم ایز کے نائب صدر عبداللہ الحمید نے ملک میں عمودی کاشتکاری کی نمایاں شرحِ نمو کے بارے میں بات کی اور یہ کہ اگلے صفر کے سفر کو تیز کرتے ہوئے فوڈ ویلیو چین کو سبز بنانے میں ملک کی کوششوں کو سہارا دینے کے لیے اس مارکیٹ میں کتنی بڑی صلاحیت ہے۔ انہوں نے زرعی ٹیک اور شعبۂ تحفظِ خوراک کی حمایت کرنے والے مالیاتی حل اور کاروباروں اور منصوبوں کی حمایت کرنے کے عزم پر روشنی ڈالی جو متحدہ عرب امارات کی مقامی خوراک کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا۔ اس سے خوراک کی درآمدات پر انحصار کم کرنے اور جدید پائیدار کاشتکاری کے طریقوں کو فروغ ملے گا۔

ای ڈی بی نے 2021 میں اپنی پانچ سالہ حکمتِ عملی کا آغاز کیا جس میں پانچ ترجیحی شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی جو ملک کے قومی ترقی کے مقاصد سے ہم آہنگ ہیں۔

ان میں قابلِ تجدید ذرائع کی تیاری، جدید ٹیکنالوجی، صحت کی دیکھ بھال اور خوراک کی حفاظت شامل ہیں۔ ای ڈی بی کے پاس 2026 تک ان شعبوں میں کام کرنے والی 13,500 کمپنیوں کے لیے 8.17 بلین درہم مالیاتی امداد کی منظوری کا مینڈیٹ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں