نیتن یاہو بن گویر کے سامنے جھک گئے، فلسطینیوں کو ہتھیار بھیجنے کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے سخت گیر حکومتی اتحادیوں کے دباؤ اور ناراضی کے بعد اس رپورٹ کی تردید کی ہے کہ ان کی حکومت نے فلسطینی سکیورٹی فورسز کو ہتھیار بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

اسرائیلی آرمی ریڈیو نے کل بدھ کو کہا کہ امریکا نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو 1500 رائفلیں فراہم کیں۔ اسرائیل نے اس شرط پر اس معاہدے پر رضامندی ظاہر کی کہ ہتھیار حماس اور اسلامی جہاد کی تحریکوں کے خلاف استعمال کیے جائیں گے۔

بن گویر برہم

اسرائیلی قومی سلامتی کے سخت گیر وزیرایتمار بن گویر جن کی پارٹی قوم پرست آباد کار گروپوں کی حمایت کرنے والی پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے نے اس پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیتن یاہو عوامی سطح پر اس کی تردید جاری کریں۔ اسرائیلی میڈیا نے کہا کہ ان کے اتحادی ا وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ فلسطینیوں کو اسلحہ دینے کے معاملے پر سخت غصے میں ہیں"۔

بن گویر نے ایک بیان میں کہا کہ ’’جناب وزیراعظم اگر آپ اپنی آواز سے ہمیں اس بات کی تصدیق نہیں کرتے کہ فلسطینی اتھارٹی کے دہشت گردوں کو ہتھیاروں کی فراہمی سے متعلق رپورٹس غلط ہیں تو اس کے نتائج برآمد ہوں گے۔‘‘

ویڈیو کلپ

اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو کلپ میں نیتن یاہو نے اس رپورٹ کی تردید کی اور اسے "جعلی خبر" قرار دیا، لیکن انھوں نے کہا کہ حکومت نے متعدد بکتر بند گاڑیوں کی منتقلی پر رضامندی ظاہر کی تھی، جس کی پچھلی حکومت نے منظوری دی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہوا یہ ہے کہ نہ بکتر بند فوجی گاڑیاں تھیں، نہ ٹینک، نہ کلاشنکوف رائفلیں، کچھ بھی نہیں تھا۔"

فلسطینی اتھارٹی کی تردید

فلسطینی سکیورٹی سروسز کے ترجمان طلال دویقات نے سرکاری وفا نیوز ایجنسی کے ساتھ ایک فون کال میں اس معاملے کی تردید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ "کچھ میڈیا اداروں اور یلو پریس کی طرف سے فلسطینی نیشنل اتھارٹی کو اسرائیل کی طرف سے اسلحہ کی فراہمی کی جعلی اور من گھڑت خبر نشر کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اس خبر کی تشہیر قومی اتھارٹی اور اس کی سکیورٹی سروسز کے خلاف اشتعال انگیز مہم کا حصہ ہے۔"

انہوں نے زور دیا کہ اتھارٹی کا حق ہے کہ وہ اپنے معمول کی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے اسلحہ اورر دیگر آلات حاصل کرے‘‘۔

امریکی سفارتخانے کے ترجمان نے اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ "فلسطینی اتھارٹی کو امریکی سکیورٹی امداد میں فلسطینی فورسز کو ہتھیار یا گولہ بارود فراہم کرنا شامل نہیں ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں