ڈیسٹینڈ ٹو پلے، فیفا+ دستاویزی فلم سعودی خواتین کی قومی ٹیم کے سفر کا احوال بتاتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن (ایس اے ایف ایف) نے جمعہ کو فیفا+ کی ایک دستاویزی فلم 'ڈیسٹینڈ ٹو پلے' کے پریمیئر کا اعلان کیا ہے جس میں سعودی عرب کی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کا غیر معمولی سفر دکھایا گیا ہے۔

45 منٹ کی دستاویزی فلم سینئر خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کے قیام اور ترقی کے بارے میں وہ منظر پیش کرتی ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

'ڈیسٹینڈ ٹو پلے' ناظرین کو اجازت دیتی ہے کہ وہ چار میچوں کے دوران کھلاڑیوں، تکنیکی عملے اور اسکواڈ میں شامل تمام افراد کے ہمراہ سعودی عرب میں خواتین کے کھیل کی تیزی سے ابھرتی ہوئی دنیا کو دیکھیں۔

سعودی عرب میں خواتین کے فٹ بال نے ناقابلِ تصور ترقی دیکھی ہے اور یہ آج کل عالمی فٹ بال کی دلچسپ ترین کہانیوں میں سے ایک ہے۔

ایس اے ایف ایف کے خواتین کے پرعزم فٹ بال ڈیپارٹمنٹ نے حالیہ برسوں میں کھیل کے ہر پہلو میں بڑے پیمانے پر پیش قدمی کی ہے۔

نہ صرف ایک سینئر، انڈر 17 اور ایک فٹسال (اندرونِ خانہ فٹ بال) قومی ٹیم قائم کی گئی بلکہ 2019 سے ایک پریمیئر لیگ اور فرسٹ ڈویژن دونوں کا آغاز کیا گیا۔

ایک سکول لیگ بھی متعارف کروائی گئی جس میں 48,000 لڑکیاں اور 3,600 حصہ لینے والے سکول شامل تھے۔

صرف گذشتہ سال ایس اے ایف ایف نے رجسٹرڈ خواتین کھلاڑیوں میں 86 فیصد اضافہ دیکھا۔

سعودی قومی خواتین فٹ بال ٹیم (فراہم کردہ)
سعودی قومی خواتین فٹ بال ٹیم (فراہم کردہ)

فیفا ویمنز ورلڈ کپ 2023 کی زبردست کامیابی کے بعد 'ڈیسٹینڈ ٹو پلے' نے فیفا+ کی اصل دستاویزی فلم 'آل روڈز لیڈ ڈاؤن انڈر' کی مقبولیت میں اضافہ کیا جو اس سفر کی تفصیلی اور پسِ پردہ تصویر کشی فراہم کرتی ہے جو ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کرنے والی خواتین کی 170 سے زائد ٹیموں نے کیا۔

سعودی عرب کی خواتین کی قومی ٹیم بھی ایک دن فیفا ویمنز ورلڈ کپ تک پہنچنے کے ایسے ہی خواب دیکھتی ہے۔ 2021 میں اپنے قیام کے بعد سے سعودی خواتین ٹیم نے اس سفر میں پہلے ہی متأثر کن پیشرفت کی ہے۔

میزبان دوستانہ ٹورنامنٹ جیتنے کے ساتھ نو میچوں میں مقابلہ کرنے کے بعد ٹیم نے اس سال کے شروع میں پہلی بار خواتین کی باضابطہ عالمی فیفا/کوکا کولا درجہ بندی میں داخل ہو کر تاریخ رقم کی۔

سعودی قومی خواتین فٹ بال ٹیم (فراہم کردہ)
سعودی قومی خواتین فٹ بال ٹیم (فراہم کردہ)

سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن کی نائب صدر لامیا بہائیان نے کہا، "یہ خاص اور متأثر کن فلم بہت طاقتور کہانیوں کے ذریعے ہمارے سفر، جذبے اور فٹ بال کے لیے غیرمتزلزل محبت کی عکاسی کرتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ 'ڈیسٹینڈ ٹو پلے' دنیا بھر کے بہت سے شائقین کو حیران اور متحد کر دے گی۔"

بہائیان نے مزید کہا، "آج سعودی عرب کے طول و عرض میں نوجوان لڑکیاں اپنے ملک کی نمائندگی کے خواب کی تعمیل کی راہ ہموار کر رہی ہیں اور یہ دستاویزی فلم انہیں سمجھنے میں مزید مدد دے گی کہ اس خواب کو حقیقت بنانا ممکن ہے۔"

ناظرین ان کھلاڑیوں کو بھی سنیں گے جنہوں نے اپنے خوابوں کو حقیقت بنایا جن میں 28 سالہ کپتان بیان صداگاہ، 26 سالہ گول کیپر سارہ خالد اور 22 سالہ مڈ فیلڈر لایان جوہری شامل ہیں۔

فٹ بال سے محبت کرنے والے ایک خاندان سے تعلق رکھنے والی - جس میں ان کے ایک چچا بھی پیشہ ورانہ طور پر ان ہی کے فٹ بال کلب - التحاد کے لیے کھیلتے تھے - جوہری نے کہا: " سعودی عرب کے لیے کھیلنا عموماً خاندان کے تمام مردوں کا خواب تھا۔"

مڈ فیلڈر نے کہا۔ "جب انہوں نے اپنی چھوٹی بچی کو قومی ٹیم میں کھیلتے ہوئے دیکھا تو مجھے یاد ہے کہ میرا بھائی مجھ سے کہتا تھا، 'تم صرف اپنا خواب نہیں جی رہیں، تم ہمارا خواب جی رہی ہو'۔ اس لمحے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے جس نے مجھے شدت سے متأثر کیا۔ یہ ایک پرجوش لمحہ تھا - یہ بہت بڑا ہے۔"

ایس اے ایف ایف فٹ بال ڈیپارٹمنٹ کی سپروائزر عالیہ الرشید نے کہا، "2021 سے ہماری ٹیم کا سفر ناقابلِ یقین سے کسی طرح بھی کم نہیں رہا۔ یہ جان کر ہمیں بہت خوشی ہوئی ہے کہ اس دستاویزی فلم کے ذریعے فٹ بال کی دنیا کھیل میں ہماری ترقی کو مزید پہچان سکتی ہے۔ یہ ایک دلچسپ کہانی ہے جو سامعین کو اپنی گرفت میں لے لے گی اور ہمارے ملک میں فٹ بال کے لیے ہر ایک کے جذبے کو صحیح معنوں میں ظاہر کرے گی۔ ہم جانتے ہیں کہ اپنے اہداف کے حصول کے لیے ابھی ہمیں ایک طویل راستہ طے کرنا ہے اور ہم دنیا کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ خواتین کے کھیل کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے اس سفر میں ہمارے ساتھ شریک ہوں۔"

'ڈیسٹینڈ ٹو پلے' فیفا+ کی ویب سائٹ پر دیکھنے کے لیے دستیاب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں