ماں کی قبر پراْہ وبکا کرتی بچی کی ویڈیو وائرل، واقعے کی حقیقت کیا ہے؟۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا میں گذشتہ اتوار کے روز آنے والےسمندری طوفان اور سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کے مناظر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ ان المناک مناظر کے ساتھ بعض ایسی ویڈیوز بھی گردش کررہی ہیں جن کا سیلاب کے واقعے سے تعلق نہیں، مگرانہیں اس تباہی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک کم سن بچی کو ایک قبر پرمنہ کے بل گرے روتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو پوسٹ کرنے والے شخص کا دعویٰ ہے کہ یہ بچی لیبیا کی ہے جہاں وہ اپنی طوفان ’ڈینیل‘ کی زد میں آ کر فوت ہونے والی اپنی ماں کی قبر پر رو رہی ہے۔

اس کلپ میں ایک لڑکی کو ایک کچی قبر پر بلک بلک کر روتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ویڈیو کو عنوان دیا گیا ہے اس کا مفہوم "درنہ کی ایک چھوٹی لڑکی اپنی ماں کی قبر پر رو رہی ہے"۔ کا عنوان دیا گیا ہے۔

مگریہ ویڈیو لیبیا کی بچی کی نہیں

تاہم حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے کیونکہ وسیع پیمانے پر پھیلائی جانے والی ویڈیو غلط ہے۔ یہ پرانی فوٹیج ہےجو2020ء کی ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ ویڈیو لیبیا کی نہیں بلکہ عراقی بچی کی ہے جس کی ماں کرونا وائرس کی وجہ سے فوت ہوگئی تھی۔

’اے ایف پی‘ کے مطابق تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ویڈیو عراق میں برسوں پہلے پیش آنے والے واقعے سے لی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ جھوٹی ویڈیو کو سوشل میڈیا پر ایک ایسے وقت میں دسیوں ہزار بار دیکھا گیا جب لیبیا کا شہر درنہ سمندری طوفان سے بری طرح تباہ ہوچکا ہے۔ طوفان سے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جب کہ ہزاروں لا پتا ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں