مخلوط تعلیمی نظام کا خاتمہ، ’کویت میں دوسرا افغانستان بنانے کی کوشش نہ کی جائے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں حکومت کی طرف سے طالبات کے لیے اسلامی ضابطہ اخلاق کے تحت نقاب لازمی قرار دینے جانے کے بعد مخلوط تعلیمی نظام کے خاتمے پر طلباء ، دانشورں اور عوامی حلقوں کی طرف سے سخت غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ناقدین نے کویت حکومت کی طرف سے مخلوط نظام کے خاتمے کو افغانستان کی موجودہ صورت حال اور طالبان کے افغانستان سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ ناقدین حکومت کویت کو طالبان کے گڑھ"قندھار" میں تبدیل کررہے ہیں۔

کویتی وزیر تعلیم عادل المانع کی طرف سے جامعات اور کالجوں میں طلبا اور طالبات کی کلاسیں الگ الگ کرنے کا حکم دیا جس کے بعد عوامی حلقوں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

دستخطی مہم

ملک کی اس باوقار سرکاری یونیورسٹی میں "ڈیموکریٹک سینٹر لسٹ" نے بھی طلبہ اور طالبات کی جانب سے فیکلٹی آف لاء میں مشترکہ کورسز منسوخ کرنے کے فیصلے کے لیے دستخطی مہم کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے اسے غلط فیصلہ قرار دیا۔

مشترکہ تعلیم کے بارے میں 2015ء کے آئینی عدالت کے حکم نمبر 12 پر عمل درآمد تمام حکام پر لازم ہے۔ طلباء نے اس واقعے کو سیاسی دباؤ کا شکار قرار دیا۔

ڈیموکریٹک سینٹر لسٹ نے طلبا سے مطالبہ کیا کہ وہ فیصلے کو منسوخ کرنے کے لیے اگلے پیر کو دھرنا دیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کویت یونیورسٹی کو 1966ء میں باضابطہ طور پر کھولی گئی تھی۔ یہ یونیورسٹی کویت میں پہلی درس گاہ تھی جس میں مخلوط تعلیمی نظام اپنایا گیا تھا۔

مگراب 1996ء میں قومی اسمبلی نے ایک قانون پاس کیا جس میں کلاس رومز میں طلبا اور طالبات خواتین کی علیحدگی کی شرط رکھی گئی۔

تاہم اگلے برسوں میں اس عمارت کے پردے کے پیچھے اس پابندی کے نفاذ کو نظر انداز کیا گیا۔ حال ہی میں متعدد ارکان پارلیمنٹ نے مخلوط تعلیم کا قانون نافذ کرنے کا مطلالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں