اسیران تبادلے معاہدے کے تحت رہائی پانے والے امریکیوں کے لیے قطری جیٹ کی تہران آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکہ اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے ’’معاہدے کے ایک حصے کے طور پر ایران میں زیرِ حراست امریکی شہریوں کو قطر [دوحا] لے جانے کے لیے قطری طیارہ تہران ہوائی اڈے پر موجود ہے۔‘‘

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر باخبر ذرائع نے بتایا: "ایک قطری جیٹ ایران میں پانچ امریکی شہریوں اور ان کے دو رشتہ داروں کو دوحہ لانے کے لیے تیار کھڑا ہے۔"

تہران نے کہا کہ قطر کی ثالثی میں کئی مہینوں پر محیط بات چیت کے بعد امریکہ کے ساتھ معاہدہ آگے بڑھے گا جس کے تحت چھ بلین ڈالر مالیت کے ایرانی فنڈز کو غیر منجمد کرنے کے بعد واشنگٹن کے پانچ قیدیوں کا تبادلہ ہو گا۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ناصر كنعانی نے کہا کہ جنوبی کوریا میں منجمد فنڈز پیر کو ایران کے قبضے میں ہوں گے جس سے ایران میں زیرِ حراست پانچ امریکی شہریوں کا امریکہ میں قید پانچ ایرانیوں کے بدلے تبادلہ ہو جائے گا۔

ذرائع نے پہلے بتایا تھا کہ احتیاط سے طے شدہ معاہدے کے تحت دوہری شہریت کے حامل پانچ امریکیوں سے توقع ہے کہ وہ تہران چھوڑ کر قطر کے دارالحکومت دوحہ اور پھر وہاں سے امریکہ جائیں گے۔

اس کے بدلے امریکہ میں موجود پانچ ایرانی رہا کر دیئے جائیں گے تاکہ وہ ایران کا سفر کر سکیں۔ تاہم ایرانی حکام اور ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کہا ہے کہ ان قیدیوں میں سے ایک شخص کے امریکہ میں ہی رہنے کی توقع ہے۔

پہلی بار 10 اگست کو منظر عام پر آنے والا یہ معاہدہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک بڑے تنازعے کو دور کر دے گا حالانکہ فریقین شدید اختلافات کا شکار ہیں جن میں ایران کے جوہری عزائم اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ سے لے کر امریکی پابندیوں اور خلیج میں امریکہ کی فوجی موجودگی تک کے مسائل شامل ہیں۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے پیر کو کہا تھا کہ وہ "تمام طریقۂ کار کی ہموار پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے" معاہدے پر تمام فریقوں کے ساتھ کام کر رہی ہے "تاکہ اسے ہمیشہ کے لیے حل کیا جا سکے"۔

رہا کیے جانے والے دوہری شہریت کے حامل امریکیوں میں دو تاجر 51 سالہ صیامک نمازی اور 59 سالہ عماد شرقی اور 67 سالہ ماہرِ ماحولیات مراد تہباز شامل ہیں جو برطانوی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ انہیں گذشتہ ماہ جیل سے رہا کر کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔

چوتھے امریکی شہری کو بھی گھر میں نظر بند کر دیا گیا جبکہ پانچواں پہلے ہی گھر میں نظر بند تھا۔ ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

ایرانی حکام نے امریکا کی جانب سے رہا کیے جانے والے پانچ ایرانیوں کے نام مہرداد معین انصاری، کامبیز عطار کاشانی، رضا سرہنگ پور کافرانی، امین حسن زادہ اور کاویح افراسیابی بتائے ہیں۔ دو ایرانی عہدیداروں نے کہا کہ افراسیابی امریکہ میں ہی رہیں گے۔

معاہدے کے پہلے مرحلے کے طور پر واشنگٹن نے 6 بلین ڈالر کے ایرانی فنڈز کی جنوبی کوریا سے قطر منتقلی کی اجازت دینے کے لیے پابندیاں ختم کر دیں۔ امریکی پابندیوں کی وجہ سے یہ فنڈز جنوبی کوریا میں منجمد کر دیے گئے تھے جو عموماً ایران کے تیل کے سب سے بڑے صارفین میں سے ایک ہے۔

معاہدے کے تحت دوحہ اس بات کی نگرانی کرنے پر متفق ہے کہ ایران فنڈز کیسے خرچ کرتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جائے کہ وہ انہیں غیر پابندی شدہ انسانی اشیا مثلاً خوراک اور ادویات پر ہی خرچ کرے۔

ایران کو فنڈز کی منتقلی کو امریکی ریپبلکنز کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جن کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن جو ڈیموکریٹ ہیں، درحقیقت امریکی شہریوں کے لیے تاوان ادا کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس معاہدے کا دفاع کیا ہے۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعلقات اس وقت سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں جب ایک ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں اپنے دورِ صدارت میں ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین طے پانے والے جوہری معاہدے سے امریکہ کو الگ کر لیا تھا۔ اس کے بعد سے ایک اور جوہری معاہدے تک پہنچنے میں بہت کم حمایت اور توجہ ملی ہے کیونکہ بائیڈن 2024 کے امریکی انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں