شام سے ترک افواج کے انخلا کے لیے ایرانی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ شام نے تہران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ترکیہ کی سرحد سے ملحق اپنی سرزمین کی حفاظت اندر سے کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

حسین امیر عبداللہیان نے ایرانی اخبار ’’الوفاق‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک نے مشترکہ ملاقاتوں کے دوران ایک تجویز پیش کی ہے کہ انقرہ ترکیہ کی سرزمین پر کسی قسم کے حملے کو روکنے کے دمشق کے عہد کے بدلے شام سے اپنی افواج کو ہٹانے کا عہد کرلے۔ انہوں نے کہا کہ شام اور ترکیہ کو جو تجویز پیش کی گئی ہے اس میں یہ بھی شامل ہے کہ روس اور ایران معاہدے کے ضامن ہوں گے اور شام اپنی فوجیں ترکیہ کی سرحد پر تعینات کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ میڈیا رپورٹس تھیں کہ امریکہ شام اور عراق کے درمیان ’’البوکمال‘‘ سرحد کو بند کرنے کے مقصد سے عسکری کارروائیاں کر رہا ہے لیکن ہماری تحقیقات کے مطابق اس زمین پر کوئی حرکت نہیں ہوئی۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کا ایسا کرنے کا ارادہ ضرور ہے۔ وہ ماضی میں ایسا کر چکا، اب بھی اگر اسے موقع ملا تو وہ ایسا کرے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ شام اورعراق کسی فریق کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرات کے مغرب اور مشرق میں ترک افواج اور سیرین نیشنل آرمی، سیریئن ڈیموکریٹک فورسز اور شامی فوج کے دھڑوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

دمشق کی خاموشی

ایرانی تجویز پر دمشق میں کوئی سرکاری تبصرہ جاری نہیں کیا گیا تاہم یاد رہے یہ تجویز روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروو کے اس بیان کے دو ہفتے بعد سامنے آئی ہے جس میں لاوروو نے کہا تھا کہ ماسکو نے دمشق اور انقرہ کو ایسی تجویز پیش کی تھی جس سے ترک افواج کی شامی علاقہ میں موجودگی کو "جائز" قرار دیا جا سکتا تھا۔

واضح رہے دمشق اور انقرہ کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دمشق کی جانب سے پہلے شامی سرزمین سے ترک افواج کے انخلا کی شرط پر قائم رہنے سے متعلق بہت سی پیچیدگیوں کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ انقرہ نے شام کے ساتھ سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور شام کی سرزمین سے اپنے مخالفین کی دراندازی کو روکنے پر زور دیا ہے۔ ترکیہ نے شام سے اپنی افواج کے انخلا کے ارادے کی کمزوری کی تصدیق کی ہے۔

یاد رہے دسمبر 2022 میں ماسکو نے دمشق اور انقرہ کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت شام اور ترکیہ کے صدور کے درمیان ملاقات کی کوشش کی گئی تھی۔ آغاز انٹیلی جنس اور دفاعی خدمات کے اجلاسوں سے ہوا۔ اس کے بعد نائب وزرائے خارجہ نے ملاقات کی، اس کے بعد 10 مئی کو وزرائے خارجہ کی ملاقات ہوئی۔

لیکن شام سے ترک افواج کے انخلا کے حوالے سے دمشق اور انقرہ کے درمیان متضاد ترجیحات کے باعث مذاکرات رک گئے تھے۔

روسی حکام کے بیانات کے مطابق دونوں فریقوں سے قابل قبول ایکشن پلان کے تحت معاہدے تک پہنچنے کے لیے رابطے جاری ہیں۔ شام کے لیے روس کے ایلچی الیگزینڈر لاورینتیو نے کہا کہ ماضی میں آستانہ اجلاس میں شریک فریقوں نے ایک ایکشن پلان کے مسودے پر تبادلہ خیال کیا تھا جسے ابھی مزید قانونی حیثیت دینے کی ضرورت ہے۔

انقرہ کا تبصرہ بھی نہ آیا

ایرانی وزیر کے بیانات پر انقرہ میں بھی کوئی سرکاری تبصرہ جاری نہیں کیا گیا تاہم معاملے کے قریبی سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ترکیہ شمالی شام سے اپنی فوجیں نہ بلانے کے حوالے سے اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کرے گا۔ اس کا وہ بارہا اعلان کر چکا ہے۔ ترکیہ سیاسی حل کو تکمیل تک پہنچنے، استحکام حاصل کرنے اور پناہ گزینوں کی رضاکارانہ اور محفوظ واپسی کو یقینی بنانے سے پہلے شام سے فوجیں واپس بلانے پر راضی نہیں ہوگا۔

تعلقات معمول پر لانے میں جمود

ترکیہ کا کہنا ہے کہ شمالی شام میں اس کی فوجی موجودگی اس کی سرحدوں کی حفاظت اور شام کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔ شام کو علیحدگی پسند تنظیموں کے خطرے کا سامنا ہے نیز ترکیہ کے زیر کنٹرول شامی علاقوں میں پناہ گزینوں کی رضاکارانہ اور محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

انقرہ اور دمشق کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا عمل گزشتہ سال روس کی پہل پر شروع ہوا تھا اور اس سال کے آغاز میں ایران نے اس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ یہ عمل 20 جون کو "آستانہ" کے بیسویں اجلاس کے بعد سے تعطل کا شکار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں