سعودی عرب کی سوڈان کے متحارب فریقین کو جدہ میں مذاکرات کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کل بدھ کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کرنے والے مملکت سعودی عرب کے وفد کی سربراہی کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے مملکت کی طرف سے سوڈان میں انسانی صورت حال کی بہتری اور امداد کی فراہمی کےلیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

سوڈانی فریقین کے درمیان بات چیت کی بحالی پر زور

انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ مملکت نے تمام سوڈانی قوتوں کو جدہ آنے کی دعوت دی ہے۔

انہوں نے سوڈان میں جنگ زدہ علاقوں میں امداد کی فراہمی کے لیے محفوظ راہداریوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا اور ساتھ ہی امداد دینے والے ممالک اور اداروں پر زور دیا کہ وہ سوڈان میں جنگ سے متاثرہ علاقوں کے شہریوں کی مدد کے لیے ہرممکن اقدامات کریں۔

سعودی وزیر خارجہ کے خطاب سے قبل اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے کوآرڈینیٹر مارٹن گریفتھس کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ سوڈان میں جاری تنازع بیرون ملک سے ہتھیاروں کی آمد کی وجہ سے بگڑ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالات خراب ہو رہے ہیں اور پورے خطے کے استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے سوڈان کے تمام فریقوں سے جدہ مذاکرات میں واپس آنے کا مطالبہ بھی کیا۔

اس موقعے پر مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے زور دیا کہ قاہرہ نے سوڈان میں بحران کے سیاسی اور انسانی پہلوؤں سے نمٹنے کے لیے ایک ایکشن پلان تیار کیا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے ملک میں جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک 300,000 سے زیادہ سوڈانی پناہ لے چکےہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ سوڈان کے پڑوسی ممالک کو اکیلے بحران کا خمیازہ نہیں اٹھانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں