’آئی اے ای اے‘ کی جانب سے اپنی سائٹس کا معائنہ کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں: ابراہیم رئیسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ان کے ملک کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے جوہری مقامات کے معائنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے حال ہی میں ایران نے متعدد عالمی معائنہ کاروں کو ایران میں جوہری تنصیبات کی معائنہ کاری سے خارج کردیا تھا۔

رئیسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایک پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں معائنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن مسئلہ کچھ معائنہ کاروں کے ساتھ ہے۔ جہاں تک ان انسپکٹرز کا تعلق ہے جو قابل اعتماد ہیں وہ ایران میں اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ "

رافیل گروسی (اے ایف پی آرکائیو)
رافیل گروسی (اے ایف پی آرکائیو)

ایرانی اقدام اس ماہ کے شروع میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز میں امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی قیادت میں اس اقدام کے بعد سامنے آیا ہے جس میں تہران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ایجنسی کے ساتھ فوری طور پر تعاون کرے۔

رئیسی نے مزید کہا کہ "تہران کا یہ فیصلہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مغربی ارکان کے بعض غیر منصفانہ بیانات کے جواب میں آیا ہے۔"

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر رافیل گروسی نے ایران کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے "غیر متناسب اور غیرمسبوق" قرار دیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ تہران کی طرف سے اٹھایا گیا قدم جسے انسپکٹرز کی "ڈی اپائنٹمنٹ" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں رکن ممالک عام طور پر جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت اپنی جوہری تنصیبات کے بعض معائنہ کاروں کے دورے پر اعتراض کر سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں