ایران: عبادت گاہ پر حملے کے الزام میں تاجک شہری کو سزائے موت سنا دی گئی

13 اگست کو حملے میں 2 جاں بحق، 7 زخمی ہوئے، 9 مشتبہ غیر ملکیوں کو گرفتار کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی ایک عدالت نے تاجکستان سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کو سزائے موت سنا دی۔ اسے 13 اگست کو ایک شیعہ مزار پر مسلح حملہ کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس حملے میں دو افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے تھے۔

ملک کے جنوب میں صوبہ فارس کے صدر مقام شیراز شہر میں احمد بن موسیٰ الکاظم کے مزار پر حملہ کیا گیا تھا۔ اس مزار کو "شاہ جراغ" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی جگہ کو نشانہ بنانے والے حملے کے ایک سال سے بھی کم وقت کے بعد اس پر یہ دوسرا حملہ کیا گیا تھا۔ پرانے حملے کی ذمہ داری بعد میں داعش نے قبول کی تھی۔ حملے کے بعد 9 مشتبہ غیر ملکیوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

عدلیہ کی آن لائن ویب سائٹ ’’ میزان ‘‘کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے مرکزی ملزم رحمت اللہ نوروزیو کو دو مرتبہ سزائے موت سنائی۔ اسے مسلح جنگ اور ملک کی سلامتی کے خلاف اکسانے کے الزامات میں سزا سنائی گئی۔ دو دیگر افراد کو حملے سے تعلق کی بنا پر 5 سال قید اور ملک سے جلاوطنی کی سزا سنائی گئی۔

حملے کے بعد شائع ہونے والی ریکارڈنگز اور تصاویر میں کھڑکیوں کو لگنے والی گولیوں اور فرش پر خون کے دھبے دکھائے گئے تھے۔ یورپی یونین، فرانس، روس اور عراق سمیت کئی ممالک نے اس حملے کی مذمت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں