محمود عباس کا دو ریاستی حل کو بچانے کے لیے بین الاقوامی کانفرنس کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی صدر محمود عباس نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ فلسطینی عوام کو ان کے مکمل حقوق حاصل کیے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہو گا۔

محمود عباس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے بین الاقوامی امن کانفرنس منعقد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ "دو ریاستی حل کو بچانے کا آخری موقع ہو سکتا ہے۔"

محمود عباس نے اقوام متحدہ کے اوراس کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریس دونوں سے فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے فیصلوں پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: "ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمیں قابض ریاست سے بچائے۔"

انہوں نے مزید کہاکہ "ہم اسرائیل کے خلاف مسلسل قابض ریاست اور اس کے جرائم کی وجہ سے متعلقہ بین الاقوامی اداروں کو شکایات درج کریں گے۔ یہ اسرائیلی حکام مسجد اقصیٰ کے قریب کھدائی کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے اس کے منہدم ہونے کا خطرہ ہے"۔

فلسطینی صدر نے اسرائیل پر دو ریاستی حل کی "منظم تباہی" کا الزام لگاتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ "ریاست فلسطین" کو تسلیم کریں اور اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کی حمایت کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دائیں بازو کی اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کو کچلنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے اور نسل پرستی کی پالیسی پرچل رہی ہے۔ انہوں نے جنرل اسمبلی سے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی نسل پرستانہ سرگرمیوں کی روک تھام کا مطالبہ کیا۔

محمود عباس نے فلسطینی عوام کی امداد کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "جب تک ہم قابض ریاست کے تسلط میں ہیں ہمیں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین کی امداد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ"ہم مشرقی یروشلم میں انتخابات کروانا چاہتے ہیں اور ہم متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے پاس جائیں گے تاکہ انہیں (اسرائیل) کو طویل انتظار کے بعد انتخابات کے انعقاد پر مجبور کیا جائے۔"

محمود عباس نے "نکبہ" کے انکار کو جرم قرار دینے اور ہر سال 15 مئی کو "نکبہ اور لاکھوں فلسطینیوں کے قتل کی یاد میں" ایک بین الاقوامی دن کے طور پر اپنانے کا مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں