بغداد میں فرسٹ لیفٹیننٹ خاتون افسرکی ساتھی افسر سےہاتھا پائی کی ویڈیو جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایک ویڈیو کلپ جنگل کی آگ کی طرح وائرل ہوا ہے جس میں ایک خاتون فوجی افسر کے ساتھ الجھتے اور دونوں کے درمیان ہاتھا پائی کا منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس موقعے پر سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

عراقی وزیر داخلہ عبدالامیر الشمری نے لڑائی جھگڑے میں ملوث خاتون اور مرد فوجی افسران کو سزا دینے کا حکم دیا ہے۔ وزیر داخلہ کا کہناہے کہ سر راہ لڑائی جھگڑا کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ ریسکیو پٹرولنگ اہلکار محمد عبد الہادی عریر نامی ایک عراقی کی گاڑی اور فرسٹ لیفٹیننٹ جمنا عماد فاضل کی گاڑیوں کے قریب تصادم کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

ویڈیو میں خاتون کو چیخ و پکار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اسے وزارت داخلہ کے ارکان اور افسران کے ایک بڑے گروپ نے گھیر لیا تھا۔ وہ اپنی گاڑی کے اندر تھی۔ اس دوران مرد افسر نے گاڑی کا دروازہ کھول دیا جس کے بعد دونوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ خاتون اہلکار نے افسر کو ٹکر مار کر اس کی گردن کے پیچھے تھپڑ مارا۔

دوسری طرف سوشل میڈیا پر اس واقعے پرملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ صارفین نے واقعے کوغیرپیشہ وارانہ قرار دیتے ہوئے اس کی تحقیقات پر زورد یا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں