ریستوراں کے مالک سعودی شہزادے نے اپنے کھانوں سے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

شہزادہ نایف بن ممدوح نے کھانا پکانے اور پیش کرنے کے لیے شیف کا روپ اختیار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک سعودی شہزادے نے اپنے نئے کھولے گئے ریستوران میں کھانا پکانے اور صارفین کو پیش کرنے کے ویڈیو کلپس سے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے۔

یہ ہیں شہزادہ نایف بن ممدوح بن عبدالعزیز جو جدہ کے مکارم نجد ریستوران میں روایتی سعودی کھانوں مثلاً مندی، جریش، کبسہ، مطازیز، مرقوق، ھریسہ اور عریکہ پیش کرنے کے لیے شیف کا ایپرن پہنے عملے کے ساتھ شامل ہیں۔

ایک ویڈیو کلپ میں شہزادہ نایف لکڑی کے کوئلے پر چکن پکا رہے اور ایک گاہک کو ریستوران کے غذا کے محفوظ ہونے کے معیار کے سرٹیفیکٹ کی وضاحت کر رہے ہیں۔

شہزادے نے کہا، "نوجوان افراد مجھ سے کہتے ہیں، آپ نے یہ کیوں پہن رکھا ہے اور اس طرح کیوں کام کر رہے ہیں؟' یہ میرا کام ہے۔ میں اپنی ٹیم کے ساتھ کام میں شریک ہونا پسند کرتا ہوں۔ کام ایک اعزاز کی بات ہے، شرم کی نہیں۔ اور کوئی نبی ایسا نہیں ہے جس نے بھیڑ بکریاں نہ چرائی ہوں- اپنے آپ پر کام کریں۔"

شہزادے نیاف بن ممدوح بن عبدالعزیز کا ریستوران
شہزادے نیاف بن ممدوح بن عبدالعزیز کا ریستوران

سوشل میڈیا پر مداحوں نے شہزادے کے لیے پسندیدگی کا اظہار کیا۔ عبدالرحمٰن السلیم نے کہا: "یہ ہمارے کچھ نوجوان مرد و خواتین کے لیے ایک پیغام ہے جو ممکن ہے ایسے پیشوں میں کام کرنے سے انکار کر دیں۔ شہزادہ نایف بن ممدوح بن عبدالعزیز جوش وجذبہ پیدا کرتے ہیں اور خود روزگاری کے کلچر کو فروغ دیتے ہیں۔"

ایک اور صارف محمد الشہری نے کہا: "شہزادہ نایف کا ایک خوبصورت اور شاندار منظر جو ذاتی طور پر ایک ریستوران کے سرپرستوں کی نگرانی اور خدمت کر رہے ہیں۔"

موجد، انسان دوست، اور تبوک کے سابق گورنر شہزادہ ممدوح بن عبدالعزیز کے صاحبزادے شہزادے نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چل کر خیراتی کام کیا ہے۔

ان کے منصوبوں میں آگ بجھانے کی صلاحیتوں کے حامل ایک ریسکیو اور ریلیف ہیلی کاپٹر کی تخلیق شامل تھی۔ یہ ایک ایسا اقدام تھا جس پر انہوں نے جنیوا میں ایجادات کی بین الاقوامی نمائش میں بین الاقوامی فیڈریشن آف انوینٹرز ایسوسی ایشنز سے ایک بڑا اور شاندار انعام حاصل کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں