’’سعودی عرب ایسی فلسطینی ریاست کا خواہاں ہے جس کا دارلحکومت القدس ہو‘‘

تین دہائیوں میں پہلی مرتبہ سعودی سفیر کی قیادت میں مملکت کے اعلی اختیاراتی وفد کا غرب اردن کا دورہ، رام اللہ میں فلسطینی صدر سے ملاقات اور نیوز کانفرنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطینی صدر محمود عباس نے منگل کو ظہر کے وقت مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے سعودی عرب کے غیر معمولی سفیر نایف بن بندر السدیری سے رام اللہ میں ان کی اسناد تقرر وصول کیں۔

السدیری فلسطین میں غیر مقیم سعودی سفارتی نمائندے ہونے کے ساتھ ساتھ القدس الشریف میں مملکت کے قونصل جنرل کے فرائض بھی انجام دیں گے۔ اسناد تقرر پیش کرنے کے موقع پر سعودی سفیر کے ہمراہ رام اللہ آنے والا وفد بھی موجود تھا۔

نایف بن بندر السدیری کو رواں برس اگست میں فلسطینی علاقوں کے لئے غیر مقیم سفیر مقرر کیا گیا تھا۔ اس تقرری کے بعد فلسطینی سفیر کی قیادت میں سعودی وفد تیس برس بعد مقبوضہ مغربی کنارے کے دورے پر آیا۔ اوسلو معاہدے کے بعد کسی بھی سعودی وفد کا مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا یہ پہلا دورہ ہے۔

فلسطینی نیوز ایجنسی کے مطابق صدر محمود عباس نے خادم الحرمین الشریفین کے سفیر السدیری کا اتھارٹی کے ہیڈکوارٹر رام اللہ میں استقبال کیا۔ سعودی سفیر کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں نے مملکت کے وفد کی ’’آمد کو انتہائی اہم‘‘قرار دیا۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے فلسطینی علاقوں میں سعودی سفیر اور القدس کے لیے قونصل جنرل نایف السدیری نے کہا کہ مملکت ایک ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے کوشاں ہے جس کا صدر مقام مشرقی بیت المقدس ہو گا۔

فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی کی معیت میں اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے سعودی سفیر نے کہا کہ ان کا ملک فلسطینی تنازعہ کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ وہ اس تنازعے کا حل بین الاقوامی قراردادوں کی روشنی میں چاہتا ہے۔

سعودی سفیر

فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے فلسطین کے ساتھ تعلقات تاریخ کے اہم مرحلے سے گذر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا فلسطینی سفیر کا مقبوضہ غرب اردن میں استقبال دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کا عکاس ہے۔

مشیر فلسطینی وزارت خارجہ احمد الدیک نے کہا کہ فلسطین اور سعودی عرب کے درمیان رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوا۔ ہمیں مشرق وسطی میں امن عمل کی کامیابی میں سعودی کردار پر بھرپور اعتماد ہے۔

یار رہے کہ سعودی عرب کا ایک وفد منگل کے روز تین دہائیوں بعد پہلی مرتبہ مقبوضہ مغربی کنارے کے دورے پر آیا ہے۔ وفد کی قیادت فلسطین علاقوں کے لیے مملکت کے غیر مقیم سفیر نایف السدیری کر رہے ہیں۔

اریحا کے قائم مقام گورنر یسرا السویطی نے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی وفد اردن کے راستے مقبوضہ مغربی کنارے پہنچا۔

مشہور زمانہ اوسلو معاہدہ پر 1993 میں دستخط کے بعد کسی بھی سعودی وفد کا یہ غرب اردن کا پہلا دورہ ہے۔

نایف السدیری کو گذشتہ ماہ ہی فلسطینی علاقوں میں خادم الحرمین الشریفین کا سفیر اور یروشلم میں قونصل جنرل مقرر کیا گیا تھا۔

رام اللہ میں فلسطین وزارت خارجہ کے مطابق فلسطینی سفارت کار ریاض المالکی نے سعودی وفد کا خیر مقدم کیا۔ اپنے دورے کے دوران سعودی سفیر فسطینی نیشنل اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے رام اللہ میں ملاقات کی اور اسناد سفارت پیش کیں۔

سعودی سفیر السدیری ایک ایسے وقت میں رام اللہ کا دورہ کر رہے ہیں جب امریکہ کی قیادت میں اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان امکانی طور پر تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے درمیان مذاکرات کی خبریں تواتر سے میڈیا کی زنیت بن رہی ہیں۔ ان مذاکرات کو خطے کی تقدیر بدلنے کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں