عراق میں شادی کی تقریب میں شریک افراد ، دلہا اور دلہن پرآگ برسنے کا ہولناک منظر

عراقی محکمہ صحت کے ترجمان سیف البدر نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ موصل کے ہسپتالوں میں پہنچنے والے زخمیوں کی تعداد 101 تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے زخمیوں کی حالات تشویشناک ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق کے صوبہ نینویٰ کے علاقے موصل میں الحمدانیہ کے مقام پر ایک شادی ہال میں شادی کی تقریب کے دوران لگنے والی خوفناک آگ کی ایک تازہ ویڈیو سامنے آئی ہے۔ویڈیو میں آگ لگنے کے شروع کا مختصر مگر ہولناک منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دلہا اور دلہن بھی رومانوی رقص میں مصروف ہیں اور اس اثناء میں ان کے اور دوسرے لوگوں کے سروں پرآگ برسنا شروع ہوگئی۔

الحمدانیہ قصبے میں شادی ہال میں آتشزدگی کے متاثرین کی صحیح تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔ 120 افراد کے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد عراقی محکمہ صحت کے ترجمان سیف البدر نے بتایا کہ موصل کے الحمدانیہ ہال میں آتشزدگی سے اب تک 87 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

البدر نے ’العربیہ‘ اور ’الحدث‘ چینلوں کوبتایا کہ موصل کے اسپتالوں میں پہنچنے والے متاثرہ افراد کی تعداد 101 تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آگ سےجلنےوالے بہت سے لوگوں کی حالت تشویشناک ہے۔

قبل ازیں خبر رساں اداروں نے اطلاع دی تھی کہ منگل کی شام شادی کے دوران لگنے والی آگ میں 120 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

ابتدائی معلومات میں بتایا گیا ہے کہ آگ لگنے کی وجہ "شادی کی تقریب کے دوران آتش بازی کا استعمال" تھا، جس کی وجہ سے "ہال کے اندر آگ بھڑک اٹھی اور پھر آگ نے تیزی کے ساتھ شادی ہال کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

وزیر اعظم محمد شیعہ السودانی نے وزیر داخلہ اوروزیر صحت پر زور دیا کہ وہ حادثے سے متاثرہ افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔

دریں اثناء نینویٰ کے آپریشنز کمانڈر نے الحمدانیہ ہال میں آتشزدگی کے بعد درجنوں افراد کی ہلاکت کے ذمہ دار 9 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں