اسرائیل کی سپریم کورٹ میں وزیر اعظم کو ہٹانے سے متعلق قوانین پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی اعلیٰ عدالت نے جمعرات کو اس قانون کے خلاف اپیلوں پر بحث کی جس میں وزیر اعظم کو عہدے سے ہٹانے کے حوالے سے پابندی عائد کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کے 15 ججوں میں سے 11 مارچ میں پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کردہ قانون سازی کے خلاف تین اپیلوں کی سماعت کے لیے بیٹھے، جس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ کسی وزیر اعظم کو صرف صحت کی وجوہات کی بنا پر عہدے کے لیے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسا قدم اٹھانے کے لیے کابینہ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے.

مخالفین کا کہنا ہے کہ قانون سازی میں تبدیلی کا مقصد صرف نیتن یاہو کو فائدہ پہنچانا تھا، کیونکہ اس سے بدعنوانی کے الزامات پر انہیں عہدے سے ہٹائے جانے کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔

نیتن یاہو اسرائیل کے پہلے موجودہ وزیر اعظم ہیں جن پر مئی 2020 میں بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔

آخری بار کسی اسرائیلی وزیر اعظم کو 2006 میں عہدے کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا، جب اس وقت کے وزیر اعظم ایریل شیرون کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور ان کی جگہ ان کے نائب ایہود اولمرٹ نے لے لی تھی جو اگلے انتخابات تک اس عہدے پر فائز رہے۔

اپوزیشن نے بعد میں اولمرٹ کو عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی لیکن سپریم کورٹ نے ان کی شکایت کو مسترد کر دیا۔

آج سپریم کورٹ کی کاروائی سے قبل درجنوں مظاہرین نے ان کی یروشلم رہائش گاہ کے باہر ریلی نکالی، جہاں پولیس کے مطابق چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

وزیر انصاف یاریو لیون نے اپنے دفتر سے شائع ہونے والے ایک بیان میں اس سماعت کو "انتخابات کو الٹانے کی کوشش" قرار دیا۔

عدالت میں پیش کی گئی درخواستوں میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ قانون سازی کو یا تو منسوخ کر دیا جائے یا اگلے انتخابات تک موخر کر دیا جائے۔

خیال رہے کہ 2021 میں عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ نیتن یاہو اپنے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے باوجود اقتدار میں رہ سکتے ہیں۔

سال کے آغاز سے، ان کی حکومت بڑے عدالتی اصلاحاتی پروگرام کے خلاف بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں سے لرز رہی ہے۔

کابینہ کا استدلال ہے کہ منتخب عہدیداروں اور ججوں کے درمیان اختیارات میں توازن پیدا کرنے کے لیے نظر ثانی ضروری ہے، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے خود مختاری کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں