ترکیہ میں جلد آئین تبدیل ہو جائے گا، حکومت ریفرنڈم بھی کرا سکتی: تجزیہ کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے چند روز قبل ملک کے لیے نئے آئین کو مرتب کرنے کے اپنے اعلان کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ اگست کو بھی یہی اعلان کیا تھا۔ اس قدم کی کامیابی کو حکمران جماعت نے سیاسی جماعتوں کے تعاون سے جوڑ دیا تھا۔ کیا ایردوان نیا آئین نافذ کر سکیں گے؟ اس نئے آئین کا مقصد کیا ہے؟

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار اور یونیورسٹی کے پروفیسر بلال سمبورنے کہا ہے کہ ترک صدر کی جانب سے نئے آئین کے معاملے کو اٹھانا اور نیا آئین بنانے کی تجویز دینا کوئی ہنگامی نوعیت کا معاملہ نہیں ہے۔ بلال سمبور انقرہ یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر ہیں۔

بلال نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو میں مزید کہا حکمران جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے سال 2000 سے ملک کے لیے ایک جمہوری آئین کا وعدہ کیا تھا لیکن اب تک انہوں نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا ہے

انہوں نے نشاندہی کی کہ "جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی‘‘ اور اس کی اتحادی انتہائی دائیں بازو کی نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی نے آئین کا مسودہ پہلے ہی تیار کرلیا ہے لیکن انہیں ابھی تک وہ عوامی اور سیاسی حمایت نہیں ملی ہے جو حقیقت میں یہ قدم اٹھانے کے لیے درکار ہے۔ انہوں نے کہا یہ دونوں جماعتیں اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہیں تو اپنے مقصد کے حصول کے لیے اب ایک مقبول ریفرنڈم کا سہارا لے سکتی ہیں۔

کچھ روز قبل ترک صدر نے ملک کے لیے ایک نئے سول آئین کے لیے اپنے مطالبے کی تجدید کی اور وضاحت کی کہ اس مقصد کو حاصل کرنا پارلیمانی بلاکس کے پارلیمان کے اندر موجود جماعتوں کے مثبت ردعمل سے منسلک ہے۔ انہوں نے ترکیہ کے لیے ایک نئے آئین کے مسودے کی تیاری کے معاملے پر بھی بات کی۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکتا کہ حکمران اتحاد ملک کے لیے مکمل طور پر ایک نیا آئین تیار کرے گا یا وہ 1982 سے نافذ موجودہ آئین کی دفعات میں محض ترمیم کرے گا۔

نیا آئین تیار کرنے یا موجودہ آئین میں ترمیم کا معاملہ بہت زیادہ ابہام کا شکار ہے۔ حکمران اتحاد نے ابھی تک آئین میں وہ نئی شقیں سامنے نہیں لایا جن کا آئین میں اضافہ کیا جائے گا یا انہیں حذف کیا جائے گا۔

ایردوان نے چند روز قبل یہ بھی اعلان کیا تھا کہ ان کی پارٹی نئے آئین کے معاملے پر بات چیت کے لیے پارلیمان میں موجود جماعتوں کے پارلیمانی بلاکس کے نمائندوں سے ملاقات کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں