عراق: شادی میں ایک اور سانحہ، زہریلا کھانا کھانے سے 50 افراد ہسپتال منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں دو روز قبل موصل شہر کے علاقے الحمدانیہ میں شادی ہال میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں شادی کی تقریب میں شریک 100 سے زاید افراد کی ہلاکت اور 150 کے زخمی ہونے کے بعد کرکوک گورنری میں ایک اور سانحہ رونما ہوا ہے۔ یہ سانحہ بھی ایک شادی کی تقریب میں پیش آیا جہاں زہریلا کھانا کھانے سے کم سے کم پچاس افراد بیمار ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔ یہ واقعہ کرکوک گورنری کے علاقے الحویجہ میں پیش آیا۔ تمام متاثرین کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب محکمہ صحت نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

عراقی وزارت صحت نے بدھ کی شام بتایا کہ ملک کے شمال میں کرکوک شہر کے مغرب میں واقع عراقی قصبے حویجہ میں شادی کی تقریب میں خراب کھانا کھانے کے نتیجے میں زہریلے کھانے سے 50 سے زیادہ افراد بیمار ہوگئے۔

عراقی خبر رساں ایجنسی نے کرکوک کے ہیلتھ ڈائریکٹر جنرل زیاد خلف کے حوالے سے کہا ہے کہ زہریلا کھانا کھانے سے متاثر ہونے والے افراد کی حالت خطرے سے باہر ہے اوران کا علاج کیا جا رہا ہے۔

کچھ مقامی میڈیا نے بتایا کہ کم از کم 20 افراد کو علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ زہر دینے کا یہ واقعہ شمالی عراق میں نینویٰ گورنری میں ایک شادی ہال میں آتش بازی کے نتیجے میں کم از کم 100 افراد کے ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہونے کے بعد پیش آیا ہے۔

عراقی وزیر داخلہ عبدالامیر الشمری نے بھی اس واقعے میں ملوث 14 ملزمان کی گرفتاری کا اعلان کیا۔

انہوں نے عراقی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیانات میں کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات کے نتائج کا اعلان 72 گھنٹوں میں کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں