عراق نے شمالی سرحد سے ایرانی اپوزیشن کو ہٹانے کی تصدیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی وزیر داخلہ عبدالامیر الشمری نے العربیہ/الحدث سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ملک کے شمال میں ایران کے ساتھ سرحدی پٹی سے ایرانی اپوزیشن کو ہٹا دیا گیا ہے۔

عراقی وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ کردستان کے علاقے میں ایران کے ساتھ سرحد مکمل طور پر عراقی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔

کیمپ کی نقل و حمل

پچھلے ہفتے العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ ایرانی- کرد حزب اختلاف کے کیمپوں کو عراق کے اندر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ عراقی سرحدی محافظ دستے عراق ایران سرحد پر تعینات ہیں۔

"مشترکہ سیکورٹی تعاون"

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ مارچ میں ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سابق سکریٹری علی شمخانی اور ان کے عراقی ہم منصب قاسم الاعرجی نے متعدد میزائل حملوں کے بعد شروع ہونے والے مذاکرات کے بعد "مشترکہ سکیورٹی تعاون" معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

گذشتہ 11 جولائی کو ایرانی چیف آف اسٹاف محمد باقری نے کہا تھا کہ اگر بغداد نے مسلح گروہوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں توان کا ملک عراقی کردستان کے علاقے پر دوبارہ حملے شروع کر دے گا. تہران نے عراقی حکومت کو اس ستمبر تک ایرانی کرد جماعتوں کو غیر مسلح کرنے کی مہلت دی تھی۔

گذشتہ ستمبر میں ایرانی پاسداران انقلاب نے عراقی کردستان پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے 70 سے زیادہ میزائلوں اور درجنوں دھماکہ خیز ڈرونز سے حملہ کیا جس میں ایرانی مہاجرین کے لیے قائم اسکول "کردستان ڈیموکریٹک پارٹی آف ایران" کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں