اردن میں ہزاروں ٹن خراب چاول فروخت کرنے پر عدالت کا نوٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اردن کی زرقا گورنری میں انسانی استعمال کے لیے نا مناسب 5,500 ٹن چاول ضبط کرنے کے معاملے نے شہریوں اور میڈیا کے درمیان بڑے پیمانے پر تنازعہ کو جنم دیا ہے۔ میڈیا میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا اتنی بڑی مقدار میں خراب چاول لانے کی اجازت کس نے دی اور ان کی فروخت سے شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا۔

زرقا گورنری میں سیفٹی اور ہیلتھ کمیٹیوں نے زرقا میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن برانچ کے تعاون سے 5,500 ٹن خراب چاول قبضے میں لے لیے جو انسانی استعمال کے لیے مناسب نہیں۔

زرقا کے گورنر حسن الجبور نے بتایا کہ چاول کی یہ مقدار تقریباً چار دونم کے رقبے کے برابربتائی گئی ہے جو اراضی پر گوداموں میں ضبط کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پوری ضبط شدہ مقدار کو ضبط کر لیا جائے گا۔ گوداموں کو سیل کردیا گیا ہے اور لاپرواہی برتنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پبلک ہیلتھ اینڈ سیفٹی کمیٹیاں تمام ریگولیٹری اتھارٹیز کے تعاون سے خلاف ورزی کرنے والوں اور شہریوں کی روزی روٹی سے کھلواڑ کرنے والوں کو برداشت نہیں کریں گی۔ ان تمام لوگوں کو جو شہریوں کی صحت اور خوراک کے تحفظ کوکھیل تماشا بناتے ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

چاولوں میں گھاس پھوس

فوڈ اینڈ ڈرگ جنرل کارپوریشن کے ڈائریکٹر جنرل نزار مھیدات نے چاول کی 5,500 ٹن سے زیادہ مقدار کو تلف کرنے کے مقصد سے ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا جو کہ انسانی استعمال کے لیے موزوں نہیں ہے۔

کارپوریشن کی لیبارٹریوں کی جانب سے جاری کردہ لیبارٹری رپورٹ کے نتائج پر مبنی فوڈ قانون کی دفعات جو کہ سنگین خلاف ورزیوں کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں۔ ایسے کیسز سے نمٹنے کے لیے سخت قوانین اور سزاؤں کا مطالبہ کرتی ہیں۔

چاول
چاول

عدالت کی مداخلت

پبلک پراسیکیوشن نے خراب چاول کیس کے مرکزی ملزم جو کہ اس کیس میں ملوث کمپنی کے جنرل منیجر ہے جو گرفتار کیا ہے۔ اس حوالے سے جمع کیے گئے شواہد سامنے لانے کے بعد اس کی تیزی سے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

پبلک پراسیکیوشن نے اس مقدمے میں اس پر اور مدعا علیہان پر 4 الزامات عائد کیے ہیں۔ ان میں اشیائے خوردو نوش میں ملاوٹ کرنے، زائد المیعاد اشیا فروخت کرنے، انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے اور غلط معلومات کے تحت دھوکہ دہی سے تجارت کرنے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

پبلک پراسیکیوٹر ڈاکٹر حسن العبداللات نے کہا کہ 17 ستمبر کوکیس کے کاغذات جنرل فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے منتقل کیے گئے تھے۔ پبلک پراسیکیوشن نے تحقیقات کیں، جن میں سماعت کے گواہان، منتظمین سے بات چیت اور خصوصی پبلک پراسیکیوٹرز کی طرف سے گوداموں کا معائنہ کرنا شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پبلک پراسیکیوشن نے اس شعبے میں مہارت رکھنے والے ماہرین کی طرف سے تکنیکی مہارت حاصل کی اور تحقیقات کے نتیجے میں اور پبلک پراسیکیوشن کے جمع کردہ شواہد کے مطابق چار جرائم اس جرم کے ذمہ داروں کے خلاف فوڈ اینڈ ڈرگ قانون کے آرٹیکل 18 اور 23 کی دفعات کے تحت کارروائی عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں