مصرمیں چینی اور پیاز کے نرخوں میں اضافہ، حکومت نے وجہ بتا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصرمیں چینی، پیاز اور ٹماٹر سمیت بعض اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر آنے والی افواہوں کے بعد مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے سپلائی کے وزیر ڈاکٹر علی المصیلحی کو مخاطب کرتے ہوئے اس کی وضاحت طلب کی۔

"ایک وطن کی کہانی" کانفرنس میں "سپلائی سیکٹر کی ڈیجیٹل تبدیلی اور گورننس" کے عنوان سے منعقدہ اجلاس میں مصری صدرالسیسی نے سپلائی اور داخلی تجارت کے وزیر ڈاکٹر علی الصیلحی سے پوچھا کہ " لوگ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر علی بازار میں اشیا کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کرتے۔ براہ کرم آپ ان کا جواب دیں"۔

اس پر سپلائی کے وزیر نے کہا کہ "ہمیں شہریوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور انہیں اپنے دکھوں کے اظہار کرنے کا حق ہے۔ وہ 18 پاؤنڈ کی چیز ڈھونڈنے جاتے ہیں تو انہیں وہی چیز 22 پاؤنڈ میں کسی دوسرے شخص کے پاس ملتی ہے۔ تیسرے کے پاس وہی چیز 23 پاؤنڈ کی ہے۔ سوشل میڈیا سائٹس قیمتیں شائع کرتی ہیں۔وہاں پر شائع ہونے والی کوئی بھی چیز غیر مصدقہ اور غیرحقیقی ہوتی ہے‘‘۔

انہوں نے پیاز کی قیمت بڑھنے کے بعد ان کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کی طرف توجہ دلائی اور کہا کہ پیاز کی برآمد پر پابندی سے قیمتوں میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ چاول کی قیمت ایک ہفتے کے اندر اندر گر جائے گی۔

ڈاکٹر علی المصیلحی نے کہا کہ چینی کا اچھا ذخیرہ ہے اور مقدار کو مزید بڑھایا جا رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی وجوہات میں ان اجناس اور دیگر زرعی اجناس کی قیمتوں میں فرق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ٹماٹر 3 پاؤنڈ میں تھے اور پانچ کلو گرام 10 پاؤنڈ کے تھے تو اس کی وجہ اجناس کی سپلائی میں اضافہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size