موسمیاتی بحران کے حل کے لیے تیل کی صنعت کی مرکزی حیثیت ہے: صدر کوپ 28

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آئندہ سی او پی 28 موسمیاتی مذاکرات کے صدر نے پیر کو ابوظہبی میں تیل کی کانفرنس میں بتایا کہ حیاتیاتی ایندھن کی صنعت موسمیاتی بحران سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

سی او پی 28 مذاکرات کے نامزد کردہ صدر سلطان الجابر نے کہا، "طویل عرصے سے اس صنعت کو مسئلے کا ایک حصہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ یہ کافی کام نہیں کر رہی ہے اور بعض صورتوں میں پیش رفت کو بھی روک رہی ہے۔" سلطان الجابر متحدہ عرب امارات کے تیل کے ایک بڑے ادارے ابوظہبی قومی تیل کمپنی (اے ڈی این او سی) کے سربراہ بھی ہیں۔

انہوں نے ابوظہبی انٹرنیشنل پیٹرولیم نمائش کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "یہ آپ کے لیے دنیا کو دکھانے کا موقع ہے کہ درحقیقت آپ ہی اس حل میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ صنعت عالمی بحث کو بدل سکتی ہے۔ نتائج کی فراہمی کے لیے پیمانے، سرمائے اور ٹیکنالوجی کے اطلاق سے شکوک و شبہات کو ختم کرنے کا وقت آگیا ہے۔"

جابر نے صنعت کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ توانائی کی پیداوار سے وابستہ کاربن اور مضرِ صحت اخراج کو روکیں اور قابلِ تجدید ذرائع توانائی کے استعمال کو بڑھائیں۔

انہوں نے رہنماؤں کو "کم کاربن" جیسے کاربن کی گرفت اور ذخیرہ کرنے والے حل کو اپنانے کی بھی ترغیب دی جن کے بارے میں موسمیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ حیاتیاتی ایندھن کی آلودگی کو کاٹ ڈالنے کے فوری ہدف سے توجہ ہٹاتے ہیں۔

موسمیاتی کارکنوں نے دبئی میں اگلے ماہ شروع ہونے والے سی او پی 28 مذاکرات کی قیادت کے لیے جابر کی تقرری پر تنقید کی ہے۔

لیکن جابر نے جزوی طور پر اپنے اس یقین پر زور دے کر کہ "حیاتیاتی ایندھن کی مرحلہ وار کمی ناگزیر ہے" امریکہ کے موسمیاتی ایلچی جان کیری سمیت سی او پی فریقین کی حمایت حاصل کر لی ہے - یہ پیغام انہوں نے پیر کو دہرایا۔

اسی دوران تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کے اعلیٰ سربراہان اور حکام نے طلب کو پورا کرنے اور توانائی کی قلت کو دور کرنے کے لیے سرمایہ کاری میں اضافے کی وکالت کی ہے۔

اوپیک آئل کارٹیل کے سیکرٹری جنرل ھیثم الغیص نے پیر کو ابوظہبی میں ہونے والی کانفرنس کو بتایا کہ حیاتیاتی ایندھن کی سرمایہ کاری کو روکنے کے مطالبات خطرناک ہیں۔

انہوں نے کہا۔ "ہم تیل میں سرمایہ کاری روکنے کے مطالبات دیکھتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ نقصان دہ ہے۔ یہ یورپ اور دنیا کے کئی دیگر حصوں کے ممالک کے لیے خطرہ ہے کیونکہ آج عالمی اقتصادی خوشحالی کی بنیاد توانائی کا تحفظ ہے۔"

اس کے بجائے انہوں نے "صرف تیل کی صنعت کے لیے" اب سے 2045 تک سالانہ 600 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا: "یورپ کے لیے اور باقی دنیا کے لیے توانائی کا تحفظ حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں