ریاض کی معاشرتی زندگی میں خاندانی روایات اور تعلقات کو برقرار رکھنے کی اہمیت

کھیلوں سے لے کر صحرائی پکنک تک خوش وقتی کی دیگر سرگرمیاں وسیع انتخاب کے لیے میسر ہوتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ہر جمعہ کو عبداللہ السلیمان اپنا پسندیدہ لباس زیب تن کر کے اپنے خاندان کو دادا کے گھر لے جاتے ہیں تاکہ وہ تمام افرادِ خانہ سے ملاقات کریں اور گھر کے عقب میں چائے اور معمول (کوکیز) کے ساتھ موسم سے لطف اندوز ہوں۔

خاندانی روایات کو جاری اور رشتہ داریوں کو برقرار رکھنا سعودی معاشرے اور ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہے جو ایک سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا ہے۔

ریاض کے رہائشیوں نے عرب نیوز کے ساتھ گفتگو کی کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ معیاری وقت گذارنے کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔

السلیمان نے کہا۔ "خاندان سعودی عرب کے معاشرے کا ایک مرکزی ستون ہے جو زیادہ تر لوگوں کے سماجی حلقے کی بنیاد ہے۔ ہر جمعہ خاندان کا دن ہوتا ہے جو میں عموماً اپنے دادا کے گھر گذارتا ہوں جہاں میرے تمام چچا اور خالہ اپنے بچوں کے ساتھ آتے ہیں۔"

کچھ خاندانوں کے گھر میں ایک مخصوص کمرہ ہوتا ہے جسے مجلس کہتے ہیں جہاں اہم خاندانی امور پر تبادلۂ خیال اور مہمانوں کا ملنے جلنے کے لیے استقبال کیا جاتا ہے۔

ریاض کے رہائشی مطلق الجبا کو اپنے خاندان کو شہر میں گاڑی میں گھمانے میں مزہ آتا ہے۔ "ہمیں ریاض کے ارد گرد سیر کرنے کا مزہ آتا ہے اس لیے میں انہیں شہر کی سیر پر لے جاتا ہوں یا ہم ایک تفریحی مرکز شیلیٹ کرایہ پر لے لیتے ہیں جس میں پورے خاندان کے جمع ہونے اور تفریح کرنے کے لیے ایک پول اور تفریحی کنسولز ہوتے ہیں۔"

سعودی عرب میں عارضی قیام کے لیے ایک استراحہ یا شیلیٹ کرایہ پر لینا ایک عام بات ہے جس میں اکثر ایک پول، خاندانوں کے جمع ہونے کے لیے ایک بڑا رہائشی کمرہ اور بچوں کے لیے کھیل کی جگہ والا باغ ہوتا ہے۔

الجبا نے کہا کہ ٹھنڈے مہینوں میں ریاض میں زیادہ تر خاندان بیرونی سرگرمیوں سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں جیسے وادئ حنیفہ اور دیگر مقامات کے ارد گرد صحرا میں پکنک منانا۔ "اسے قشطہ کہتے ہیں۔ سردیوں کی سرد راتوں میں ہم صحرا میں کرسیاں، چائے، کھانا، لکڑی اور ایک چھوٹا قالین لے کر آتے ہیں تاکہ بیٹھ کر موسم کا لطف اٹھا سکیں اور گرمائش کے لیے لکڑیاں جلانا پسند کرتے ہیں۔"

دیگر مشہور خاندانی سرگرمیوں میں خیمہ زنی، صحرائی سفاری ٹور، اونٹ کی سواری، سینڈ بورڈنگ، کواڈ بائیکنگ اور ستارہ بینی شامل ہیں - یہ سب مقامی کاروباروں کے لیے معاشی امکانات کو بڑھاتے ہوئے فطرت کے منفرد تجربات پیش کرتے ہیں۔

السلیمان نے کہا، "ہم صحرا میں ایک خیمے میں جمع ہونے کو ترجیح دیتے ہیں جہاں لڑکے تاش کا کھیل بلوت کھیلتے ہیں اور خواتین بیٹھ کر چائے یا سعودی کافی کا مزہ لیتی اور بچوں کو بھاگتے ہوئے دیکھتی ہیں۔"

ساکر، گھوڑ دوڑ اور شاہین بازی جیسے کھیلوں میں حصہ لینا بھی ریاض کی خاندانی روایت کا ایک لازمی حصہ ہے۔

نوف الحمیدی بچوں کو گھڑ سواری سکھانے کے لیے اصطبل والا فارم کرائے پر لینا پسند کرتے ہیں۔

"سعودی گھوڑوں سے بخوبی مانوس ہیں اور میرے خاندان میں بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی گھڑ سواری سکھانا پسند کرتے ہیں تاکہ وہ بڑے ہو کر فیصلہ کر سکیں کہ آیا وہ اسے ایک کھیل کے طور پر کرنا چاہتے ہیں۔ بچے بھی فارم کے جانوروں کو دیکھ کر بہت پرجوش ہوتے ہیں اور وہ دودھ بنانے کے طریقے اور انڈے جمع کرنے کے بارے میں بہت کچھ سیکھتے ہیں۔"

رمضان میں خاندان زیادہ تر اختتامِ ہفتہ کے دوران دوستوں اور خاندانوں کے لیے گھر پر افطاری کا اہتمام کرتے ہیں۔ عید الفطر اور عید الاضحٰی - اسلامی کیلنڈر میں دو اہم ترین مذہبی تعطیلات - وسیع خاندانوں کے لیے خوشی کے مواقع ہیں جو جشن منانے، تحائف کے تبادلے اور روایتی خور و نوش سے لطف اندوز ہونے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔

حنوف السلامہ نے بتایا کہ ان کے والد کا ایک فارم ہے جہاں خاندان کے افراد اور ان کے بچے فطرت سے لطف اندوز ہونے اور کھجوریں جمع کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔

السلامہ نے کہا۔ "ہم خاندان کے لیے کھجور کے ساتھ سعودی کافی بناتے ہیں؛ ہم بچوں کے لیے ایک مقابلہ منعقد کرنا پسند کرتے ہیں کہ دئکھیں کون سب سے زیادہ کھجوریں جمع کر سکتا ہے۔ ہم ایک باربی کیو بھی کرتے ہیں جہاں خاندان کے مرد اکثر گوشت پکاتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں