ابوظبی کے صحرا میں بلیاں تلف کرنے پر حکام کا اظہار مذمت، تحقیقات کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ابوظبی میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت کے ایک صحرا میں 100 سے زائد بلیوں - جن میں سے کئی مردہ پائی گئیں - کو تلف کیے جانے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام نے اس "غیر انسانی فعل" کی مذمت بھی کی۔

یاد رہے کہ ’’العربیہ‘‘ نے گذشتہ ہفتے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت کے الفلاح علاقے میں امارات کے فالکن ہسپتال کے قریب بلیوں اور ان کے بچوں کی دریافت کے بعد جانوروں کو بچانے والے دہشت زدہ رہ گئے۔

اب تک 60 بلیاں صحرا میں مردہ پائی گئیں جن کے اعضاء اور عضلات (موت کے بعد) سخت ہو جانے کے مراحل میں تھے جب کہ مزید 84 زندہ ملیں اگرچہ کئی پانی اور غذا کی قلت کا شکار تھیں۔ امدادی کارکن اب زندہ ملنے والی بلیوں کے لیے دوبارہ گھر تلاش کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

تقریباً تمام بلیاں (ٹریپ، نیوٹر، ریلیز پروگرام) کے ذریعے مائیکرو چِپ اور بے جنس کی ہوئی پائی گئی تھیں۔ ابوظبی کے محکمۂ بلدیات اور نقل و حمل (ڈی ایم ٹی) نے بدھ کے روز واقعے کی تحقیقات شروع کر دینے کی تصدیق کی۔

ایک بیان میں محکمے نے کہا: "ڈی ایم ٹی نے رپورٹ موصول ہونے کے بعد فوراً تحقیقات شروع کر دیں اور یہ تمام متعلقہ انتظامی اور قانونی اقدامات اٹھائے گا۔"

"ڈی ایم ٹی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس نے اس فعل کے پسِ پردہ وجوہات کے تعین کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔ محکمے نے نوٹ کیا کہ یہ غیر انسانی فعل جو مہذبانہ اخلاقیات اور اقدار سے متصادم ہے، اس کے مرتکب افراد کی شناخت کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ تحقیقات بدستور جاری ہیں۔"

"ڈی ایم ٹی نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ وہ عوام اور کارکنوں کے جذبات کی قدر کرتا ہے اور اس واقعے کا جواب دینے میں رضاکاروں کے تعاون کو تسلیم کرتا ہے۔"

"ڈی ایم ٹی نے ان پر زور دیا کہ وہ اس واقعے سے متعلق کسی بھی تفصیلات کا اشتراک کرنے کے لیے تعاون اور بات چیت کریں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ جانوروں کی بہبود کے بارے میں ڈی ایم ٹی کے مؤقف سے متصادم طریقوں کو مناسب انداز میں دوبارہ واقع ہونے سے روکا جائے۔"

امدادی کارکن زندہ بلیوں کو بچانے اور ان کے لیے عارضی گھروں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ تقریباً تمام بلیوں کو مائیکرو چِپ اور ٹی این آر (ٹریپ، نیوٹر، ریلیز پروگرام) کے ذریعے بے جنس کر دیا گیا۔
امدادی کارکن زندہ بلیوں کو بچانے اور ان کے لیے عارضی گھروں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ تقریباً تمام بلیوں کو مائیکرو چِپ اور ٹی این آر (ٹریپ، نیوٹر، ریلیز پروگرام) کے ذریعے بے جنس کر دیا گیا۔

کیڑوں پر قابو پانے کا ذمہ دار سرکاری محکمہ تدویر آوارہ بلیوں سے نمٹنے کے لیے کئی ٹھیکیداروں کا استعمال کرتا ہے۔ انہیں عموماً فالکن ہسپتال لے جا کر ان کی بیماری کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور اگر وہ صحت مند پائی جائیں تو انہیں بے جنس کر کے اسی کمیونٹی میں واپس بھیج دیا جاتا ہے جہاں وہ ملی تھیں۔

لیکن ملنے والی بلیوں کی بڑی تعداد نے جانوروں کے امدادی کارکنان کو مشتعل کر دیا جن میں سے کئی نے العربیہ کو بتایا کہ ان کے خیال میں بلیوں کو اجتماعی طور پر کیڑوں پر قابو پانے والے کارکنان نے پھینکا تھا۔

العربیہ کو بھیجی گئی ویڈیو فوٹیج میں کئی بلیاں مردہ پڑی ہوئی یا ریت میں دبی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔ العربیہ سے بات کرتے ہوئے چیکو نامی ایک تارکِ وطن نے بلیوں کو بچانے میں مدد کے لیے اس مقام کا دورہ کیا۔ انہوں نے اس سائٹ کو "قتلِ عام" قرار دیا۔

امارات میں جانوروں کی فلاح و بہبود کے ایک رضاکار کارکن کی طرف سے متنبہ کیے جانے کے بعد خلیفہ سٹی کی رہائشی جیکولین ایپلبی نے بھی اس جگہ کا دورہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا، "یہ بو ہمیشہ میرا تعاقب کرتی رہے گی۔ یہ انتہائی خوفناک ہے۔ آس پاس بہت، بہت سی بلیاں مردہ پڑی تھیں۔"

ڈی ایم ٹی نے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ 800 555 پر رابطہ کرکے کسی بھی بدسلوکی یا غفلت کی اطلاع دیں جس سے جانوروں کو خطرہ لاحق ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں