اردن میں ایک درخت کی جڑوں سے پھیلا ایک چھوٹا اور عجیب جنگل آپ بھی دیکھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شمالی اردن میں وادی عربد گورنری میں واقع "درختوں کا جنگل" ایک قدرتی سیاحتی مقام ہے جو سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

یہاں ہر وہ شخص آتا ہے جو فطرت کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ایک درخت کے تنے سے مکمل سبز جنگل دیکھنا چاہتا ہے۔

یہ دیرینہ تاریخی درخت تل ھجیجہ اور راس العین کے علاقوں کے درمیان واقع ہے۔ اس کی عمر کا تخمینہ ماہرین کے مطابق 800 سال لگایا گیا ہے۔ یہ ایک درخت دو دونم کے رقبے پر محیط ہے۔ درخت کی جڑیں ایک ہیں جس سے نکلنے والی شاخوں نے درختوں کا روپ دھار کر جنگل بنا دیا ہے۔

اس درخت کو اس خطے میں بسنے والے لوگوں کا تاریخی گواہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ امریکی سیاح ڈاکٹر سیلاھ میرل نے اسے ایک وحشی، کانٹے دار سدر کا درخت قرار دیا تھا۔ انہوں نے اس جگہ پر اس کی موجودگی کو خاندانوں اور اسکول کے طلباءکے لیے ایک شاندار مقامی سیاحتی علاقہ بنا دیا تھا۔

درخت کی تکلیف

یہ معجزاتی درخت ایک بڑے مسئلے سے دوچار ہے اور اسے اس کے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی نہیں ملتا۔ اس کی پریشانی اس کی شاخوں پر انگور کے پودے کی نشوونما سے ظاہر ہوتی ہے، جو کہ پرندے لے جانے والا طفیلی پودا ہے۔ یہ اپنے بیجوں کے ذریعے اگتا ہے، جسے پرندے کھاتے ہیں اور جس سے بیج گرتے ہیں۔ اس کی شاخوں سے چپک جاتے ہیں اور درخت سے پیدا ہونے والے سبز رس کو کھاتے ہیں۔

زرعی ماہرین کے مطابق یہ طفیلی پودا درخت کی خوراک کو جذب کرنے میں بے حد مفید ہے اور اسے شاخوں سے روکتا ہے جس کی وجہ سے یہ سوکھ کر مر جاتا ہے۔

مویشی پالنے والے اپنے مویشیوں کو پانی پلانے کے لیے ھحجیہ کے درخت کے قریب واقع چشموں سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔

لکڑی کاٹنے کے مقصد سے درخت پر مسلسل حملوں کے علاوہ اسے 2016 کے دوران کچھ پیدل سفر کرنے والوں کی طرف سے بھی آگ کا نشانہ بنایا گیا جنہوں نے آگ جلا کر اسے چھوڑ دیا جس کی وجہ سے وہ اس درخت تک پہنچ گئے اور اسے نقصان پہنچا۔

سیاحت کے نقشے سے غائب

ورثے اور ماحولیاتی امور کے محقق ڈاکٹر احمد جبر الشریدہ نے کہا کہ ھججہ کے درخت کی اہمیت اس حقیقت میں مضمر ہے کہ یہ اردن کا سب سے بڑا طویل المدتی درخت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ تقریباً 3 دونم پر پھیلا ہوا ہے اور سدر کے درخت کی ایک نایاب قسم ہے۔

ڈاکٹر الشریدہ نے مزید کہا کہ اس درخت کی خطے میں ایک طویل تاریخ ہے، جس میں شاید سب سے اہم یہ ہے کہ یہ خطے کے تاریخی اور زرعی سیاحت کے نشانات میں سے ایک ہے اور یہ اپنی شکل و جسامت کے لحاظ سے منفرد ہے۔

ھحیجہ کے علاقے اور تاریخی درخت کی ان تمام خصوصیات کے باوجود یہ سیاحت کے نقشے سے ابھی تک غائب ہے۔اسے بہت سی سہولیات کی ضرورت ہے جیسے کہ ریسٹ ہاؤس اور وزیٹر ایریا وغیرہ جس سےاس کی سیاحوں کے ہاں افادیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں