نئی تاریخ رقم: جی سی سی کا 14 سال میں پاکستان کے ساتھ پہلا آزادانہ تجارت کا معاہدہ

خلیج تعاون کونسل کے ساتھ پاکستان کے ساتھ پہلے آزادانہ تجارت کے معاہدے میں سعودی عرب کا کردار بہت اہم رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے نگران وزیر برائے تجارت گوہر اعجاز نے بدھ کو بتایا کہ خلیجی تعاون تنظیم (جی سی سی) نے 14سالوں میں پاکستان کے ساتھ پہلا آزادانہ تجارت کا معاہدہ (ایف ٹی اے) کیا ہے۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مرتضٰی سولنگی، وزیر توانائی محمد علی اور وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران بتائی۔

گوہر اعجاز نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس معاہدے میں سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک سے آزادانہ تجارت کا معاہدہ بڑا بریک تھرو ہے۔ 2009 میں یہ فورم بنا تھا جس میں چھ ممالک ہیں۔ جی سی سی ممالک کی برآمدات ایک ٹریلین ڈالر اور درآمدات پانچ سو ارب ڈالرز ہیں۔ پاکستان جی سی سی ممالک سے توانائی اور پیٹرو کیمیکلز کی تقریبا 19بلین ڈالر کی اشیاء امپورٹ کرتا ہے۔

پاکستان کا برآمدی حصہ صرف پانچ ارب ڈالر تھا۔ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ یہ اتنی بڑی مارکیٹ ہے جس میں ہمارا شیئر آدھا فیصد ہے اور ہمارا وہاں سے تجارتی خسارہ بھی سالانہ 17 ارب ڈالر کا ہے، تو ہم اس مارکیٹ کو کھولیں اور فری ٹریڈ ایگریمنٹ لیں۔

انہوں نے کہا کہ جی سی سی نے بھی اس معاہدے پر خوشی کا اظہار کیا ہے جو پاکستانی برآمداد کے لیے خوش آئند ہے۔ پاکستان اور جی سی سی کے مابین 29 ستمبر کو ایف ٹی اے پر ریاض میں حتمی مذاکرات کے بعد ابتدائی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آزادانہ تجارت کے معاہدہ میں سعودی عرب نے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ سعودی عرب کے تجارت، اقتصادی امور کے وزراء اور خلیج تعاون کونسل کے چھ ممالک کے ممبران ریاض میں موجود تھے۔ یہ پاکستان کیلئے ایک اچھی پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہاکہ سعودی عرب میں پاکستان کے ورکرز موجود ہیں۔ آج ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں اس پر تفصیل سے بات کی گئی اور اس پر مکمل طریقہ کار بنا رہے ہیں ۔سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی وہاں سے اربوں ڈالرز کی ترسیلات بھیجتے ہیں۔

جی سی سی کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق تنظیم کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البديوی نے کہا کہ ’پاکستان کے ساتھ ابتدائی معاہدہ ممالک اور بین الاقوامی سطح پر مضبوط تجارتی اور معاشی تعاون کی نشاندہی کرتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ ممالک کے درمیان مضبوط معاشی تعلقات اور معاشی ترقی کا عکاس ہے جس سے فریقین کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔

گوہر اعجاز نے مزید بتایا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں جائز تجارت میں تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ افغان تاجر جو مال لے کر جائیں گے اس کے برابر بینک گارنٹی اور انفراسٹرکچر استعمال کرنے کی دس فیصد فیس ادا کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کا مال اس کی کھپت کے لیے استعمال ہو نہ کہ اس کی اسمگلنگ ہو۔

پریس کانفرنس کے آغاز میں نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا بنیادی مقصد ملک کی معاشی ترقی کو تیز کرنا اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایس آئی ایف سی کے اجلاس میں تمام اہم وزارتوں کے وزراء موجود تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں