سعودی عرب میں "پیشہ ورانہ رہ نمائی" نے ملازمت کی تلاش کے سفر کو کیسے مختصر کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں یونیورسٹی کی خواتین طالبات نے تجربات سے بھرپور تحقیقی سفر کے بعد اپنے کیرئیر کا نقشہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔اس کے دوران انہوں نے پیشہ ورانہ رہ نمائی کے پروگرام سے استفادہ کیا جس نے ان کی مہارتوں اور صلاحیتوں کو فروغ دینے میں مدد کی اور انہیں لیبر مارکیٹ کی قابلیت اور مہارت کی شناخت کرنے کے قابل بنایا۔ اس کا آغاز ہیومن ریسورسز ڈویلپمنٹ فنڈ نے متعدد سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کے تعاون سے کیا تھا۔ اس کا مقصد تعلیمی نتائج کو لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کرنا اور طلباء اور گریجویٹس کو موجودہ اور مستقبل کی مہارتوں کے بارے میں جاننے کے قابل بنانا ہے۔

طیبہ یونیورسٹی کی ایک طالبہ رزان عبدالرحمٰن نے بتایا کہ پیشہ ورانہ رہ نمائی کے پروگرام کے ذریعے فراہم کردہ خدمات نے انہیں اپنی صلاحیتوں اور CV کو پیشہ ورانہ طور پر بنانے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ "طلبہ کو اپنی صلاحیتوں فروغ دینے فروغ دینا چاہیے اور متعلقہ پروگراموں میں داخلہ لینا چاہیے، کیونکہ یہ گریجویشن کے بعد نوکری حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ہے"۔

پیشہ ورانہ رجحانات

دوسرہ طرف جازان یونیورسٹی کے طالب علم شاہد ادیب نے کہا کہ اس پروگرام نے انہیں اپنے پیشہ ورانہ رجحانات کا تعین کرنے میں مدد کی اور اسے اپنے کیریئر اور پیشہ ورانہ مستقبل کو دیکھنے کے قابل بنایا۔ لیبر مارکیٹ کو درکار مہارتوں اور پیشوں کے بارے میں جاننے کے لیے یونیورسٹی کی رہ نمائی کی۔

یہ پروگرام یونیورسٹیوں کے ساتھ شراکت داری اور انضمام کی اہمیت پر مبنی ہے تاکہ طلباء اور گریجویٹس کے درمیان پیشہ ورانہ رہ نمائی اور اس کی ترقی کے تصور کو بڑھایا جا سکے۔ یونیورسٹیوں کے ساتھ ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے میں تعاون کیا جا سکے تاکہ مختلف شعبوں میں ان کے روزگار کے مواقع کو بڑھایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں