فلم میں ترکی السدیری کا کردار ادا کرنا ان کی سوانح حیات سے محبت کا اظہار تھا: العتیبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی مصنف ترکی السدیری کی قومی سوانح عمری ان کے انتقال کو 6 سال گذرنے کے باوجود آج بھی میڈیا کی یادداشت میں اٹکی ہوئی ہے۔ تاہم فلمی شعبے نے ان کی سوانح عمری کو “صحافت کے بادشاہ کی کہانی”۔ کے عنوان سے زندہ کیا ہے۔

اس دستاویزی فلم میں ترکی السدیری کا کردار ادا کرنے والے ہدایت کار اور پروڈیوسر فیصل العتیبی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "پروفیسر ترکی السدیری مرحوم کے بارے میں تجویز کردہ ’فلم دی اسٹوری آف دی کنگ آف دی پریس‘ میں میرے رول کا آئیڈیا پیارے ساتھی پروڈیوسر علی سعید نے پیش کیا تھا۔ انہوں نے شروع میں مجھ سے فلم کے آئیڈیا کے بارے میں بات کی اور کہا کہ وہ اس پر کام کر رہے ہیں۔ وہ فلم کے ذریعے السدیری کی سوانح حیات کو دستاویزی شکل دینا چاہتے ہیں۔ وہ اس فلم میں ان سے وفاداری اور سعودی پریس اور خاص طور پر الریاض اخبار میں ان کے طویل کیریئر کا کردار پیش کریں گے۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ " جب انہوں نے مجھے فلم کا آئیڈیا بتایا اور اس میں مجھے السدیری کے کردار کو مجسم کرنے کے لیے کہہ کر حیران کر دیا۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ میرے اور اس کے ظاہری شکل میں مماثلت ہے۔ سب سے پہلے مجھے مماثلت کے بارے میں یقین نہیں تھا۔ انہوں نے مجھے کچھ تصاویر دکھائیں جن سے مجھے اندازہ ہوا کہ میں ترکی السدیری سے کسی حد تک مماثلت رکھتا ہوں۔ میں نے فلم کے لیے محبت کی وجہ سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس کردار کے لیے رضامندی ظاہر کردی۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ڈاکٹر ہند السدیری کی اس کردار میں میری مہارت کی گواہی ایک سرٹیفکیٹ ہے جس پر مجھے فخر ہے۔ یہ ایک سرٹیفکیٹ ہے جو اس لیے اہم ہے کہ وہ مرحوم پروفیسر ترکی کی بیٹی ہیں۔ جسمانی کارکردگی، لباس کی تفصیلات اور اس کے طریقہ کار، مضامین لکھنے کے ماحول کو جاننے کے لحاظ سے مجھے فلم کی تیاری میں زیادہ وقت لگا۔"

دستاویزی فلموں کی کمی کے بارے میں العتیبی نے زور دے کر کہا کہ ان کی بہت اہمیت کے باوجود یہ واقعی کم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "میرے نقطہ نظر سے اس کی وجوہات کا تعلق پہلے ماضی کے ادوار میں عام طور پر دستاویزی ثقافت کی کمزوری سے ہے۔ ایسے کاموں کو انجام دینے کے لیے دستیاب انسانی اور مادی صلاحیتیں محدود تھیں۔ اس سلسلے میں کسی سرکاری ادارے یا تنظین کا فقدان بھی دستاویزی فلموں کی طرف توجہ نہ جانے کی ایک وجہ ہے۔

العتيبي
العتيبي

اب وزارت ثقافت اور اس کے متعدد اداروں کی موجودگی کی روشنی میں ادب، ثقافت اور فنون کے شعبوں میں مجھے یقین ہے کہ یہ ثقافتی، فنکارانہ، ادبی اور دیگر شعبوں میں علمبرداروں سے متعلق ہر چیز کو دستاویز، انوینٹری اور محفوظ کرنے کی منصوبہ بندی اور کام کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں