قیدی سے جنسی اسکینڈل کے بعد اسرائیلی خواتین اہلکاروں کوجیل سے ہٹا دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

چند روز قبل اسرائیل کو ہلا کر رکھ دینے والے اسکینڈل کے بعد پانچ اسرائیلی خواتین فوجیوں کے ایک فلسطینی قیدی کے ساتھ جنسی تعلقات کے بعد حکام نے نئے اقدامات اٹھائے ہیں۔

العربیہ اورالحدث کے نامہ نگار کی خبر کے مطابق اسرائیلی ریمون جیل کے کمانڈر امنون یاھوی نے آج بدھ کو اعلان کیا ہے کہ کل سے اسرائیل سکیورٹی ونگز میں کوئی خاتون گارڈز نہیں ہوں گی۔

وائی نیٹ ویب سائٹ کے مطابق یہ فیصلہ اسرائیل میں سکیورٹی حکام کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں نیگیو کی رامون جیل میں قید پانچ خواتین فوجیوں کے وہاں عمر قید کی سزایافتہ فلسطینی قیدی کے ساتھ گہرے تعلقات تھے۔

معلومات کے مطابق قیدی کو وسطی اسرائیل میں ایک حملے میں ملوث ہونے کے بعد عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جس میں اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔

ایک خاتون فوجی کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ یہ رشتہ اتفاق رائے سے نہیں تھا اور اسے اس پر مجبور کیا گیا تھا، لیکن ایک پولیس افسر نے تصدیق کی کہ ایسے شواہد موجود ہیں جو اس کی کہانی کو "نمایاں طور پر کمزور" کرتے ہیں۔

موبائل فون اور تصاویر کا تبادلہ ہوا۔

یہ کیس انٹیلی جنس معلومات کے نتیجے میں شروع ہوا جو سکیورٹی سروس کی انفارمیشن سکیورٹی برانچ تک پہنچی۔اس میں لازمی سروس میں ایک خاتون سپاہی کے بارے میں بات کی گئی جو جیل گارڈ کے طور پر کام کرتی ہے۔اس کے گذشتہ سال کے دوران ایک فلسطینی قیدی کے ساتھ گہرے تعلقات تھے۔

اسی ویب سائٹ کے مطابق سکیورٹی حکام نے شبہ ظاہر کیا کہ اس قیدی نے اپنے سیل میں ایک موبائل فون رکھا تھا جس سے وہ جیل کی خواتین محافظوں کے ساتھ رابطےکرتا۔ ان کے ساتھ تصاویر شیر کرتا اور ان کا تبادلہ بھی کرتا تھا۔

سکیورٹی سروس کی انفارمیشن برانچ کی طرف سے جمع کی گئی تفصیلات کو جیل گارڈز کی تحقیقات کے لیے قومی یونٹ کو منتقل کیا گیا، جس نے ایک خاتون فوجی کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا۔ آخر میں اسے رہا کر کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ .

دھوکہ دہی اور اعتماد کی خلاف ورزی

خاتون سپاہی سے دھوکہ دہی اور اعتماد کی خلاف ورزی کے الزام میں پوچھ گچھ کی گئی اور تفتیش کے دوران اس نے دیگر چار خواتین فوجیوں کا انکشاف کیا جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اسی قیدی کے ساتھ گہرے تعلقات میں تھیں۔

ویب سائٹ نے کہا کہ جس خاتون سپاہی سے تفتیش کی گئی وہ اپنی فوجی سروس کے اختتام کے قریب ہے۔ پولیس دیگر چار خواتین سپاہیوں کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

سکیورٹی فورسز نے قیدی کو بھی اس کے سیل سے نکالا اور اسے ایک الگ جیل میں منتقل کردیا گیا، جہاں پولیس کی جانب سے اس سے پوچھ گچھ کی کی جا رہی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی اسرائیلی خواتین فوجیوں کی اعلیٰ حفاظتی جیلوں میں خدمات کو روکنے کے لیے بارہا مطالبے کیےگئے ہیں۔ خاص طور پر اسرائیلی وزراء کی جانب سے پچھلے سال ان الزامات کی تحقیقات کے بعد کہ فلسطینی قیدیوں نے جیل کے محافظوں کے طور پر کام کرنے والی خواتین فوجیوں پر حملہ اور عصمت دری کی.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں