شام میں ملٹری کالج حملہ پر سوگ، فوج کی عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے شہر حمص میں ملٹری کالج پر حملے میں مرنے والوں کی تعداد 123 ہو گئی ہے اور اقوام متحدہ نے حمص میں ملٹری کالج پر حملے کو ہولناک قرار دیا اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ ملک بھر میں حملے کا سوگ منایا گیا۔

جمعہ کے روز شامی فوج نے حمص میں ملٹری کالج کو نشانہ بنانے والے حملے کے جواب میں شمالی شام میں ادلب گورنری میں مسلح گروپوں کے مقامات پر بمباری کی۔

شامی میڈیا کے مطابق شامی فوج نے ادلب کے دیہی علاقوں اور حلب کے مغرب میں واقع شہر دارہ عزہ کے شہروں اور قصبوں میں مسلح گروہوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔ وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں دہشت گرد تنظیموں کو انتباہ کیا کہ ملٹری کالج پر کئے جانے والے اس حملے کا جواب دیا جائے گا۔

شام کی وزارت صحت نے جمعہ کے روز بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں 31 خواتین بھی شامل ہیں۔ زخمی ہونے والوں کی تعداد 277 تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری طرف سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ حملے میں 30 عام شہریوں سمیت سمیت 123 افراد ہلاک اور 120 زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔

شامی حکومت نے تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے۔ جمعہ کے روز ملک بھر میں تمام سفارت خانوں اور سفارتی اداروں میں پرچم سرنگوں رہے۔

اقوام متحدہ کے ایلچی نے فوری طور پر تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تشدد میں اضافے کو فوری طور پر روکیں تاکہ پورے شام میں جنگ بندی ہو سکے۔ انہوں نے کہا تمام فریقوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں