خواتین حقوق کی ایرانی وکیل نے جیل سے امن کا نوبیل انعام جیت لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قیدی ایرانی خواتین کے حقوق کی بازیابی کے لئے کوشاں قیدی وکیل نرگس محمدی نے جمعہ کو 2023 کا امن کا نوبیل انعام جیت لیا۔

انسانی حقوق کے سرکردہ ایرانی کارکنان میں سے ایک نرگس محمدی ہیں جنہوں نے خواتین کے حقوق اور سزائے موت کے خاتمے کے لیے مہم چلائی ہے۔

محمدی کو "آزادی کی مجاہدہ" کے طور پر سراہتے ہوئے ناروے کی نوبیل کمیٹی کی سربراہ نے اپنی تقریر کا آغاز فارسی میں "زن، زندگی، آزادی" کے الفاظ کہہ کر کیا - جو ایرانی حکومت کے خلاف پرامن احتجاج کے نعروں میں سے ایک ہے۔

بیرٹ ریس اینڈرسن نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ناروے کی نوبیل کمیٹی نے 2023 کا امن کا نوبیل انعام نرگس محمدی کو دینے کا فیصلہ کیا ہے جو ایران میں خواتین کے ساتھ ہونے والے جبر کے خلاف اور سب کے لیے انسانی حقوق اور آزادی کے فروغ کے لیے ان کی جدوجہد کے لیے ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم فرنٹ لائن ڈیفنڈرز کے مطابق محمدی اس وقت تہران کی ایون جیل میں تقریباً 12سال قید کی متعدد سزائیں کاٹ رہی ہیں۔ یہ ان کئی سزاؤں میں سے ایک ہے جس کی بنا پر وہ سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ ان پر لگائے گئے الزامات میں ریاست کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلانا بھی شامل ہے۔

نرگس محمدی 2003 کی نوبیل امن انعام یافتہ شیریں عبادی کی زیرِ قیادت ایک غیر سرکاری تنظیم ڈیفنڈرز آف ہیومن رائٹس سینٹر کی نائب سربراہ ہیں۔

محمدی 122 سال پرانا انعام جیتنے والی 19ویں خاتون ہیں اور فلپائن کی ماریہ ریسا جنہوں نے 2021 میں روس کے دمتری موراتوف کے ساتھ مشترکہ طور پر یہ ایوارڈ جیتا تھا، ان کے بعد انعام جیتنے والی پہلی خاتون ہیں۔

گیارہ ملین سویڈش کراؤن یا تقریباً 1 ملین ڈالر کی مالیت پر مشتمل نوبیل امن انعام 10 دسمبر کو اوسلو میں سویڈن کے صنعت کار الفریڈ نوبیل کی برسی کے موقع پر پیش کیا جائے گا جنہوں نے اپنی 1895 کی وصیت میں ایوارڈز کی بنیاد رکھی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں