امارات کا کوپ 28 سے پہلے باد چکی سے بجلی بنانے کے منصوبوں کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات نے وسیع پیمانے پر باد چکی کے ذریعے بجلی بنانے کے اپنے ایک اولین منصوبے پر کام شروع کیا ہے کیونکہ اس سال کے آخر میں ایک بڑی عالمی موسمیاتی کانفرنس کی میزبانی سے قبل ملک نے اپنی کلین اینڈ گرین کارکردگی کو نمایاں کیا ہے۔

مصدر کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ ابوظبی کی سرکاری ملکیت میں قابلِ تجدید توانائی پیدا کرنے والی اس کمپنی نے خلیج عرب کے دو جزیروں سمیت چار مقامات پر ہوا کی طاقت استعمال کر کے 103.5 میگا واٹ بجلی بنائی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ منصوبہ ہوا کی کم رفتار پر بھی توانائی پیدا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے جس سے اسے متحدہ عرب امارات کے حالات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات خلیجی عرب کا پہلا تیل پیدا کرنے والا ملک تھا جس نے 2050 تک کاربن کے خالص صفر اخراج تک پہنچنے کے ہدف کا اعلان کیا۔ حتیٰ کہ جب وہ اقوام متحدہ کے سی او پی 28 موسمیاتی سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنے کی تیاری کر رہا ہے تب بھی تیل اور گیس کی پیداواری صلاحیت کو بڑھا رہا ہے۔

حکومت کی ملکیتی ابوظبی نیشنل آئل کمپنی اپنے پروسیسنگ پلانٹس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ پر گرفت کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ یہ اخراج کو کم کرنے اور آب و ہوا کے ہدف تک پہنچنے میں مدد کے لیے متحدہ عرب امارات کی سبز اور جوہری طاقت کو استعمال کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

چیف ایگزیکٹو محمد جمیل الرماحی نے گذشتہ ماہ ایک انٹرویو میں کہا کہ شفاف بجلی پیدا کرنے والی ملک کی سب سے بڑی کمپنی مصدر اس عشرے کے آخر تک 100 گیگا واٹ کی مجموعی صلاحیت حاصل کرنا چاہتی ہے تو یہ اس سال صلاحیت کو دوگنا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں