"ملٹری کالج کے قتل عام" کے 24 گھنٹے بعد حمص پر نامعلوم ڈرون کا نیا حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں ملٹری کالج پر خونی ڈرون حملے کے 24 گھنٹوں کے اندر حمص میں ایک نیا ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔ حملے کرنے والے ڈرون سے متعلق معلوم نہیں ہو سکا کہ کس نے بھیجا تھا۔

حملے کے بعد علاقے میں شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دی گئیں اور ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی دیکھی گئی ہیں۔

خیال ہے کہ گذشتہ روز حمص میں ملٹری اکیڈیمی پر ڈرون حملے کے نتیجے میں کم سے کم 123 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انسانی حقوق کی شامی رصدگاہ نے بتایا کہ حمص کے ملٹری کالج میں ڈرون حملے میں کئی شدید زخمی افراد زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہو رہے ہیں جس سے ان کارروائی میں مہلوکین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حمص کے ملٹری کالج میں فارغ التحصیل افسران کی گریجویشن تقریب کے دوران ہونے والے ڈرون حملے میں مرنے والوں کی تعداد اب تک 123 ہو گئی ہے۔ مرنے والوں میں 54 عام شہری بھی شامل ہیں۔ ان میں 39 بچے اور خواتین بھی شامل ہیں جو پاس آؤٹ ہونے والے افسران کے رشتہ دار بتائے جاتے ہیں۔

نئے گریجویٹس میں مرنے والوں کی تعداد 62 تک پہنچ گئی۔ تقریباً 150 زخمی ہیں جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک ہے۔

گذشتہ روز حمص میں ملٹری کالج کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب ایک تقریب ہو رہی تھی۔ تقریب کے اختتام کے چند منٹ بعد پیش آنے والے اس خونی واقعے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں۔

ترک اہلکاروں کا قتل

حلب کے دیہی علاقوں میں دابق اڈے پر گذشتہ رات بمباری میں ترک اسپیشل فورسز کے دو ارکان مارے گئے، جب کہ شمالی حلب کے دیہی علاقوں میں حکومتی فورسز کے ٹھکانوں سے گولے داغے گئے۔

گذشتہ روز سیریئن آبزرویٹری نے بتایا کہ حلب کے شمالی دیہی علاقوں میں واقع گاؤں دابق میں ترک افواج کے اڈے کو نشانہ بناتے ہوئے حکومتی فورسز کے ٹھکانوں سے توپ خانے سے گولہ باری کی گئی۔

یہ علاقہ ترک افواج اور ان کے وفادار دھڑوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں شامل ہے۔

اس تناظر میں ترکیہ کے جنگی طیاروں نے شہر عفرین کے دیہی علاقوں مالکیہ، بیلونیہ اور منغ ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں