اسرائیلی وزیراعظم کا فرزند یاھو جونیئر امریکی گرین کارڈ کیوں لینا چاہتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تل ابیب میں ایک سیاسی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے بیٹے یائر نیتن یاہو امریکا میں مستقل قیام اور کام کے لیے گرین کارڈ کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک یہودی امریکی وکیل کی خدمات بھی حاصل کی ہیں۔

ذرائع کے مطابق نیتن یاہو جونیئر، جن کے بارے میں افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ وہ اپنے والد سے اسرائیل کی قیادت کی جانشینی کا ارادہ رکھتے ہیں اسرائیلی معاشرے کٹ گئے ہیں۔ ان کی دلچسپیاں امریکا میں ہیں۔ انہوں چھ ماہ قبل امریکا کے شہر میامی میں رہائش اختیار کر لی تھی۔

اسرائیل کے کثیرالاشاعت عبرانی اخبار’یدیعوت احرونوت‘ کو نیتن یاھو خاندان کے ایک قریبی شخص نے بتایا کہ یائر کو اس کے تجربے کے دوران ایسا لگا کہ اسے امریکا ہی میں رہنا چاہیے۔ اس لیے وہ گرین کارڈ حاصل کرنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ لیکن اسے خدشہ ہے کہ اس کی درخواست مسترد کر دی جائے گی، کیونکہ ان کے خاندان اور جو بائیڈن انتظامیہ کے درمیان تعلقات اچھے نہیں ہیں۔

ایمیگریشن کے امور کے امریکی یہودی وکیل مائیکل فیلڈز نے تصدیق کی کہ یائر نیتن یاہو ان کے معزز مؤکلوں کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یائر نیتن یاھو نے کہا ہے کہ وہ ان کے لیے ویزا حاصل کریں۔

فیلڈز جن کے دفتر کی ایک شاخ تل ابیب میں بھی ہے اور عبرانی زبان روانی سے بولتے ہیں نے نئے مؤکل کو ایک صحافی اور سیاسی روشن خیال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یائر نیتن یاھو کا ریکارڈ اسرائیلی اور بین الاقوامی دونوں سطحوں پر شاندار ہے۔ وہ ایک قابل انسان ہے جن کے پاس بہت زیادہ صلاحیتیں ہیں اور وہ امریکا میں کامیاب شہری بن سکتے ہیں"۔

اس خبر کی تصدیق ایک سیاسی ذریعے نے بھی کی جس نے نیتن یاہو جونیئر اور ان کی والدہ سارہ سے گذشتہ جون میں لندن میں منعقدہ ایک شادی کے دوران ملاقات کی تھی۔

ارب پتی جیک گریٹلر جو نیتن یاھو کی انتخابی مہمات کے ایک بڑے معاون ہیں کے بیٹے کی شادی کے دوران نے کہا کہ "میں نے خود انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ وہ قانونی طور پر امریکا میں رہنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ لیکن انہیں ڈر ہے کہ ان کی درخواست مسترد کر دی جائے گی"۔

تاہم نیتن یاہو نے امریکی انتظامیہ کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے انہیں اس طرح کی خبروں کو افواہیں قرار دیا۔ انہوں نے امریکا میں رہنے کی خواہش اور اس کی درخواست کے بارے میں خبروں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

یہ بات قابل غور ہے کہ نیتن یاہو جونیئر ایک متنازع شخصیت ہیں اور وہ اپنی سیاسی انتہا پسندی اور اپنے والد کے مخالفین کے خلاف سخت دشمنی کے لیے مشہور ہیں۔

یاہو جونیئر سوشل میڈیا پر ایسی متنازع پوسٹیں بھی شائع کرتے رہے ہیں جن کی وجہ سے ان کے والد کو سیاسی جماعتوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور کئی بار نیتن یاھو ان پوسٹوں کی وجہ سے پریشان بھی ہوئے۔

سابق نائب وزیر خارجہ ڈینی ایلون نے کہا کہ ’’وہ نہ صرف ایک باغی لڑکا ہے بلکہ واشنگٹن میں وہ اسے اپنے والد اور وائٹ ہاؤس کے درمیان تعلقات میں زہریلا مادہ سمجھتے ہیں۔‘‘

اسرائیلی اخبارات نے بے تحاشا اخراجات کے بارے میں متعدد رپورٹیں شائع کیں۔ ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی ٹیکس دہندہ یائر نیتن یاہو جہاں بھی جاتے ہیں ان کی حفاظت کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے بہت پیسہ خرچ کیا جاتا ہے، کیونکہ وہ وزیر اعظم کے بیٹے ہیں۔

مارچ میں نیتن یاہو جونیئر نے ملک چھوڑا اور واپس نہیں آئے۔ وہ میامی اور فلوریڈا میں رہتا ہے ایسا لگتا تھا کہ وہ وہاں رہنا پسند کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں