اسرائیل کا باضابطہ طور " حالت جنگ کا اعلان " مگر اس کا مطلب کیا ہے؟َ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی حکومت نے 50 سال میں پہلی بار غزہ کی پٹی کے علاقے کے ساتھ حالت جنگ کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی محکمہ دفاع اور سلامتی کونسل نے غزہ کی پٹی کے ساتھ سرکاری طور پر جنگ کا اعلان کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے اتوار کو ایک بیان میں تصدیق کی کہ "ریاست اسرائیل پر مسلط کردہ جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کی پٹی سے ہونے والے مہلک دہشت گردانہ حملے سے ہوا تھا"۔

6 اکتوبر 1973ء کی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے "ریاستی سظح پر جنگ" کا اعلان کیا ہے حالانکہ عملی طور پر اس کی فوجی کارروائیاں مسلسل جاری رہی ہیں۔

حالت جنگ کا کیا مطلب ہے؟

عملی طور پر حالت جنگ کا مطلب ہنگامی حالت کا اعلان کرنا اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ملک کی لاجسٹک صلاحیتوں اور بنیادی ڈھانچے کو فوج کے اختیار میں رکھنا ہے۔جنگ کا اعلان ہمیشہ ذخائر سے بڑی فوجوں کی بھرتی کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے اس سے قبل پچھلے ادوار میں حالت جنگ کی سطح سے نیچے فوجی مہمات کے فریم ورک میں ریزرو بھرتی کیے ہیں۔

اس کا مطلب تمام وسائل کو فوج کے اختیار میں رکھنا بھی ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حماس کے اعلان کردہ "طوفان الاقصیٰ" آپریشن کی وجہ سے ہونے والے صدمے کی گہرائی کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس صورت حال میں ملک میں ہوائی اڈوں کو بند کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ فوجی آپریشن کے دوران غیر معمولی معاملات میں کرفیو لگانا پڑ سکتا ہے۔

"آہنی تلواریں"

کل ہفتے کے روز اسرائیلی فوج کے ترجمان کرنل ڈینیئل ہاگری نے "آپریشن آئرن سورڈز" شروع کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ذخائر کو متحرک کرنے کا اعلان کیا۔

اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے بھی فوج کی ضروریات کے مطابق بڑے پیمانے پر ریزرو فوجیوں کو بلانے کی منظوری دی اور غزہ کی پٹی کے 80 کلومیٹر کے اندر ہنگامی حالت کا اعلان کیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل اکتوبر 1973 کی جنگ کے دوران فلسطینیوں کی مزاحمتی کارروائیوں میں 2600 اسرائیلی مارے گئے تھے۔ تین ہفتوں تک جاری رہنے والی لڑائی کے دوران نو ہزار پانچ سو فلسطینی مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں