سعودی عرب غذائی تحفظ کی اختراعات کے اگلے دور کا سرخیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

جوں جوں عالمی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے، پائیدار مستقبل کے لیے خوراک اور پانی کی مستحکم فراہمی کو یقینی بنانا اہم ترین ہوگیا ہے۔

تبدیلی میں ہمیشہ پیش پیش رہنے والا سعودی عرب اس چیلنجر کو اپنے پائیدار اقدامات میں مرکزی اہمیت دیتا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری اداروں اور چھوٹے سے درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے ذریعے چلنے والے غذائی تحفظ کے منظر نامے میں قابلِ ذکر تبدیلیاں آ رہی ہیں جس میں مختلف متعلقین کی فعال شراکت شامل ہے۔

ایک سعودی انٹرپرائز برکہ کی توجہ غذائی تحفظ کے منظر کو نئی شکل دینے پر مرکوز ہے۔ اس انٹرپرائز کے سی ای او اور شریک بانی عبدالعزیز السعود نے عرب نیوز کو بتایا۔ "گذشتہ عشرے کے دوران سعودی عرب نے اپنے غذائی تحفظ کو بڑھانے میں اہم پیش رفت کی ہے۔"

عبدالعزیز السعود، برقہ کے سی ای او اور شریک بانی۔ (سپلائی شدہ)
عبدالعزیز السعود، برقہ کے سی ای او اور شریک بانی۔ (سپلائی شدہ)

السعود نے درآمدات پر انحصار کم کرتے ہوئے خوراک کے ذرائع کو متنوع اور مقامی بنانے کے لیے مملکت کے اقدامات پر زور دیا۔

"اس میں زرعی ٹیکنالوجی میں اہم سرمایہ کاری اور بیرونِ ملک کھیتوں کا حصول شامل ہے۔" انہوں نے نوٹ کیا اور مزید کہا: "ٹیکنالوجی کو اپنانا اس ترقی میں یکساں طور پر مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔"

کیپشن: برکہ کے سی ای او اور شریک بانی عبدالعزیز السعود (فراہم کردہ)

السعود نے بتایا کہ مقامی پیداوار کو بڑھانے، پانی کے ضیاع کو کم کرنے اور زرعی شعبے میں کارکردگی کو بہتر کرنے کے لیے کس طرح جدید زرعی طریقوں کو بروئے کار لایا گیا ہے۔

ان کوششوں کی اہمیت اس وقت سامنے آئی جب مملکت کی جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے ستمبر میں کھجور، دودھ کی مصنوعات اور انڈوں کی پیداوار میں خود کفالت کی اطلاع دی۔

ان اعداد و شمار سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ سعودی عرب مقامی طلب کو پورا کرنے کے لیے یہ تینوں غذائی اشیاء کافی سے زیادہ پیدا کرتا ہے یعنی اس کے پاس برآمد کی گنجائش زیادہ ہے۔

وزارتِ ماحولیات کے 10 بلین ڈالر کے ایکشن پلان کے حالیہ آغاز کا حوالہ دیتے ہوئے السعود نے عالمی خوراک کی فراہمی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مملکت کے عزم پر بھی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا، "مملکت نے زرعی مقاصد کے لیے پانی کے استعمال کو 40 فیصد سے زیادہ کم کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی اور ہمارے ایک اہم چیلنج - پانی کی کمی - کو حل کیا۔"

انہوں نے مزید کہا، "صرف 2022 میں گذشتہ سال کے مقابلے میں زرعی شعبے میں 7.8 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جو ہماری غذائی تحفظ کی حکمت عملیوں کے مثبت اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔"

پیور ہارویسٹ سمارٹ فارمز متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک سرکردہ زرعی ٹیک انٹرپرائز ہے۔ اس کے سی ای او اور بانی اسکائی کرٹز نے اضافی سعودی اقدامات پر روشنی ڈالی جو غذائی تحفظ کے مستقبل کو ازسرِنو متعین کرنے کے لیے تیار ہیں۔

کرٹز نے عرب نیوز کو بتایا، "جارحانہ اور دفاعی دونوں طرح کے پالیسی اقدامات کے ساتھ سعودی عرب غذائی تحفظ میں پیش رفت کے لیے انتہائی متحرک رہا ہے۔"

اسکائی کرٹز، سی ای او اور پیور ہارویسٹ اسمارٹ فارمز کے بانی۔ (سپلائی شدہ)
اسکائی کرٹز، سی ای او اور پیور ہارویسٹ اسمارٹ فارمز کے بانی۔ (سپلائی شدہ)

انہوں نے مزید کہا، "مثلاً مملکت نے کھانے کی مختلف مصنوعات پر درآمدی محصولات عائد کیے اور بڑھا رہی ہے تاکہ مقامی طور پر خوراک پیدا کرنے والوں کو تحفظ ملے اور مقامی مارکیٹ کے لیے ان کی مسابقت بہتر ہو۔"

انہوں نے سعودی عرب کے زرعی ترقیاتی فنڈ کا بھی حوالہ دیا جس نے اس شعبے کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔

کیپشن: پیور ہارویسٹ سمارٹ فارمز کے بانی اور سی ای او سکائی کرٹز (فراہم کردہ)

کرٹز نے مزید کہا۔ "جب ہم پیور ہارویسٹ کے ساتھ کام کرنے والے شعبوں کی ترقی اور تعاون کو دیکھیں تو ہمیں صنعتوں کی مدد کے لیے سرگرم اقدامات، پروگراموں اور اداروں کی طرف سے نمایاں پیش رفت نظر آتی ہے جو مملکت میں غذائی تحفظ اور درآمد پر انحصار کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بہترین طریقے سے آراستہ ہیں۔

اقتصادی خوشحالی کا ایک اہم محرک ہونے کے ناطے ٹیکنالوجی پر مبنی حل نے بھی غذائی تحفظ کے چیلنجوں سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

السعود نے وضاحت کی کہ سعودی عرب نے فصلوں کی صحت کی نگرانی، آبپاشی کے انتظام اور کیڑوں پر قابو پانے کے لیے درست طریقۂ زراعت، معلومات کے تجزیئے، ڈرونز اور انٹرنیٹ آف تھنگز میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔

السعود نے مزید کہا، "اس کے نتیجے میں پیداوار میں اضافہ اور وسائل کا اہم تحفظ ہوا ہے۔ مملکت کا مٹی کے بغیر کاشتکاری کی تکنیکوں مثلاً ہائیڈروپونکس اور ایکواپونکس کی طرف رخ کرنا کنٹرول شدہ ماحول میں خوراک کی کاشت کو قابل بناتا ہے، یہ ڈرامائی طور پر پانی کو محفوظ کرتا اور موسمی تبدیلیوں سے قطع نظر مسلسل پیداوار کو یقینی بناتا ہے۔

مزید برآں پائیدار مستقبل کے لیے خوراک کے فضلے کو کم کرنا اہم ہے۔

السعود نے کہا، "برکہ اس کی ایک بہترین مثال ہے جس کا آن لائن بازار خوردہ فروشوں کو اضافی ذخیرے کے ساتھ سعودی عرب میں صارفین سے مربوط کرتا ہے، خوراک کے مؤثر استعمال کو یقینی بناتا ہے اور اس کے پائیدار استعمال کو فروغ دیتا ہے۔"

برکہ کے السعود کے مطابق تقریباً 20 فیصد خوراک کا ضیاع گھروں میں ہوتا ہے جو شعور اور تعلیمی مہمات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا، "غذا کے نظام اور ٹیکنالوجی کے درمیان ترقی پسند ہم آہنگی اور مطابقت سعودی عرب کے لیے زیادہ پائیدار اور خوراک کے محفوظ مستقبل کی راہ ہموار کر رہی ہے جس کی مثال سعودی عرب کے ریڈ سی فارمز، مواریق اور برکہ جیسے منصوبے ہیں۔"

کرٹز نے غذائی تحفظ کے کثیرجہتی چیلنج سے نمٹنے میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی اہمیت کو مزید واضح کیا۔

انہوں نے کہا، "حکومتیں اور بڑی کمپنیاں ہر مسئلہ کو ازخود حل نہیں کر سکتیں اور اکثر ان کے پاس وہ چستی اور لچک نہیں جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے ادارے (ایس ایم ایز) لاتے ہیں۔"

کرٹز نے مزید کہا، "جیسا کہ ہم نے اپنے کاروبار کے ساتھ براہ راست کام کرنا شروع کیا ہے تو ایس ایم ایز بہت ہی مخصوص 'مسائل کے مقامات' کو شناخت اور حل کر سکتے ہیں اور ان مواقع بشمول غذائی تحفظ سے فائدہ اٹھانے کے لیے کاروبار بنا سکتے ہیں۔"

کرٹز نے مزید ذکر کیا کہ ایس ایم ایز میں ایسے حل تیار کرنے کی صلاحیت ہے جو خوراک کے موجودہ نظام کو تبدیل کرنے کے لیے بہت اہم ہیں۔

کرٹز نے کہا، "ایس ایم ایز کی پشت پر اکثر خطرہ مول لینے والا سرمایہ ہوتا ہے جو خطرات مول لینے اور نئی اختراعی ٹیکنالوجیز، کاروباری طریقوں وغیرہ کو آزمانے کے لیے تیار ہوتے ہیں سو یہ غذائی تحفظ کو بہتر بنانے اور جمود کو تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہیں - یہ سب کچھ خطے کی اقتصادی ترقی اور ہمارے وقت کے سب سے بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کے متنوع عزائم میں بلکہ انہیں آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔"

السعود نے اس بات پر زور دیا کہ وسیع چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مختلف ذیلی شعبوں میں اختراع میں سرمایہ کاری بہت ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا، "پانی صاف کرنے، مؤثر آبپاشی ٹیکنالوجی، محفوظ زراعت، ہائیڈروپونکس، پودوں کی افزائش اور مٹی کی بحالی جیسے اہم شعبوں میں جدت لانے میں سرمایہ کاری کرکے سعودی عرب ایسے تجارتی حل فراہم کرے گا جو دنیا بھر میں بنجر زمین کے لچکدار زرعی نظام کی تعمیر کے لیے بآسانی بروئے کار لائے جاسکتے ہیں۔"

السعود کے مطابق مملکت کے ادارے ان تکنیکی پیش رفتوں کو بروئے کار لانے کے لیے سرگرمی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

سعودی گرین انیشی ایٹو کا مٹی میں درخت لگانے کا منصوبہ ہے جو سعودی عرب میں قائم کمپوسٹنگ کمپنیوں جیسے ادامہ کی تیار کردہ ہیں۔ یہ مقامی سپلائی چین کی مدد اور ریاض میں شاہ سلمان پارک جیسے یادگار منصوبوں کی تعمیر میں سہولت فراہم کرتا ہے۔

مزید برآں نیوم (این ای او ایم) ارادہ رکھتا ہے کہ کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں تیار کردہ ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے دنیا کا پائیدار ترین غذائی نظام بنایا جائے۔

السعود نے مملکت میں مختلف شعبوں میں تعاون کی قابلِ ذکر سطح پر روشنی ڈالی، یہ تجویز دیتے ہوئے کہ یہ مربوط نقطۂ نظر عالمی سطح پر نقل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، "مستقبل پر نگاہ مرکوز کیے ہوئے سعودی عرب نے ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری جاری رکھی ہے اور اپنے غذائی تحفظ کے فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کو فروغ دے رہا ہے۔"

السعود نے مزید کہا، "یہ جامع نقطۂ نظر غذائی تحفظ میں اضافے اور آئندہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کے مسلسل عزم کے سفر کا خلاصہ بیان کرتا ہے۔"

شرقِ اوسط اور شمالی افریقہ کا موسمیاتی ہفتہ 8 سے 12 اکتوبر تک ریاض میں شروع ہونے والا ہے تو عالمی رہنما خطہ کے فعال اقدامات اور پائیداری میں حاصل ہونے والی کامیابیوں پر غور و خوض کرنے کے لیے مجتمع ہو رہے ہیں۔

ورکشاپس، مباحثے، اور فائرسائیڈ چیٹس کو سمٹ میں پیش کیا جائے گا جس میں آب و ہوا، غذائی تحفظ اور اس سے آگے کے موضوعات کا احاطہ کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں