سعودی عرب میں ہائیڈروجن ٹرین کے پہلے تجربات کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی ریلویز (ایس اے آر) نے فرانسیسی کمپنی ’السٹوم‘ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کے بعد سعودی عرب میں ہائیڈروجن ٹرین کے تجربات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مقصد ضروری آپریشنل تجربات اور مطالعہ کرنا ہے تاکہ اس قسم کی ٹرین کی تیاری پر کام کیا جا سکے۔ اس حوالے سے سعودی محکمہ ریلوے’ایس اے آر‘ اور فرانسیسی السٹوم کمپنی کے کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے۔

سعودی ریلوے [ایس اے آر] نے اس اکتوبرمیں تجربات کا آغاز کیا ہے۔ ان ٹرینوں کا آپریشن مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ یہ تجربہ پائیدار نقل و حمل کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے مملکت کے عزم اور اقدام کی عکاسی کرتا ہے۔

قومی حکمت عملی کے مقاصد

سعودی عرب میں ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے وزیر اور سعودی ریلویز (SAR) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین انجینیر صالح الجاسر نے وضاحت کی کہ یہ قدم ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک خدمات کے لیے قومی حکمت عملی کے مقاصد کا حصہ ہے۔ یہ منصوبہ ایک زیادہ پائیدار ٹرانسپورٹ سسٹم جو جدید ترین سمارٹ ٹیکنالوجیز پر انحصار کرتا ہے مملکت میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک انقلابی اقدام ہوسکتا ہے۔

"ایس اےآر" اپنے اہم کردار کے لیے پرعزم ہے۔ یہ اقدام سعودی وژن 2030 سے نکلنے والے سعودی گرین انیشیٹو کےحصول کے لیے اہم پیش رفت ہے جس میں صاف توانائی پر سعودی عرب کا انحصار بڑھانا اور کاربن کے اخراج کو کم کرنا ہے۔

ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک خدمات کے وزیر نے اس شعبے کو اپنی خدمات، ترقیاتی منصوبوں اور اقدامات کے حصول کے قابل بنانے کے لیے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیزکی جانب سے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک خدمات کے نظام کو ملنے والی زبردست اور لامحدود حمایت کی تعریف کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ کا سمارٹ نظام مختلف اداروں کے درمیان تعاون اور اشترکہ سے آگے بڑھایا جائے گا جسے قدرکی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اس موقعے پر ’ایس اے آر‘ کمپنی کے سی ای او ڈاکٹر بشار المالک نے نقل و حمل اور لاجسٹکس خدمات کے لیے قومی حکمت عملی سے منسلک کمپنی کی حکمت عملی سے پیدا ہونے والے معیاری اقدامات کو نافذ کرنے میں سعودی ریلوے کے اپنے اہم قومی کردار کے عزم پر زور دیا۔ ہائیڈروجن ٹرین پائیدار نقل و حمل کے میدان میں سب سے اہم جدید ایجادات میں سے ایک ہے جو بغیر کسی کاربن کے اخراج کے ٹرینوں کو چلانے اور منتقل کرنے کے لیے درکار توانائی پیدا کرکے انہیں چلایا جا سکےگا۔

اس قسم کی ٹرین کے منظور شدہ تجربات جرمنی میں 2018ء میں شروع ہوئے اور 2020ء تک جاری رہے۔ اس لیے مسافروں کی نقل و حمل کے لیے محدود تجارتی آپریشن 2022ء میں شروع ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں