قدیم انجنوں کے ساتھ پیرا گلائیڈرز نے غزہ کی پٹی پر اپنی شناخت کیسے بنائی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان گذشتہ دو روز سے جاری لڑائی کے دوران پہلی بار فلسطینی عسکریت پسندوں نے گلائیڈرز کا استعمال کرکے اسرائیل پر کاری ضرب لگائی۔

اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس یہ اندازہ لگانے میں ناکام رہے۔ ان انجنوں کا اسرائیلی فوجی سطح پر حساب نہیں لگایا گیا، حالانکہ یہ گلائیڈر قدیم انجنوں سے کام کرتے ہیں۔

یہ گلائیڈر غزہ کی پٹی سے اڑتے ہوئے آسمان سے سرحدوں، چوکیوں اور خاردار تاروں کو عبور کر کے اسرائیلی آبادی میں داخل ہوگئے۔ یہ گلائیڈر ایک ایسے وقت میں اڑائے گئے جب دوسری طرف فلسطینی مزاحمت کاروں نے بڑے پیمانے پر راکٹ داغ کر اسرائیلی فوج کو ایک نئی پریشانی میں ڈال دیا تھا۔

یہ گلائیڈرز غزہ کی پٹی کے ارد گرد کی بستیوں میں گہرائی میں اترے اور زمین پر مسلح فلسطینیوں نے موٹرسائیکلوں کے ساتھ سرحد پار کرکے ان کو جوائن کرلیا۔

بیرکوں اور بستیوں پر دھاوا

مسلح افراد نے زمین پر اسرائیلی فوجی اڈوں کا محاصرہ کیا اور گھروں اور بیرکوں پر دھاوا بول دیا۔ سڑکوں کے بیچ میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد فوجیوں سمیت بڑی تعداد میں اسرائیلیوں کو پکڑ لیا گیا۔

جب کہ اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حماس کے پاس اسرائیل کے پاس موجود صلاحیتوں اور ذرائع کا کوئی موازنہ نہیں کر سکتا اور اس کی اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

ہفتہ کی صبح حماس کے مسلح ونگ نے ایک مشترکہ آپریشن کیا جس میں غزہ کی پٹی سے اسرائیل میں راکٹ داغنے اور مسلح افراد کی دراندازی شامل تھی۔ جس کے نتیجے میں 350 کے قریب اسرائیلی مارے گئے اوردرجنوں اسرائیلیوں کو گرفتار کر لیا۔ اس واقعے نے 50 سال قبل اکتوبر کی جنگ کی یاد تازہ کردی۔

اس حملے کے جواب میں اسرائیل نے کل سے شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ ان تباہ کن حملوں کے نتیجے میں غزہ میں تقریبا 313 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔

اگرچہ اس اچانک حملے نے اسرائیلی انٹیلی جنس کی کارکردگی کے بارے میں بہت سے سوالات کو جنم دیا۔ کیونکہ اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کو اس کی توقع ہرگز نہیں تھی کہ حماس اچانک اس طرح کا طاقت ور حملہ کرے گی.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں