کئی سال کی تربیت کے باوجود غزہ کے محاذ پر اسرائیلی فوج کیوں پسپا ہوئی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی علاقے غزہ سے کل سات اکتوبر 7 ہفتے کے روز حماس کے مزاحمت کاروں نے اسرائیل پر ایسا تابڑ توڑ راکٹ حملہ کیا جس سے ہونے والے بے پناہ نقصان سے اسرائیلی خوف کا شکار ہونے کے ساتھ حیران و پریشان ہیں۔

موساد کے سابق سربراہ افرائیم ہیلیوی نے کہا کہ ہفتے کی صبح غزہ کی پٹی اور اس کے ارد گرد اسرائیلی بستیوں ہمیں کچھ اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے؟"۔

انہوں نے تصدیق کی کہ اسرائیلی فورسز کو کسی بھی قسم کی کوئی وارننگ موصول نہیں ہوئی، انہوں نے اسرائیلی شہروں میں فلسطینی دھڑوں کے ارکان کی دراندازی کو سراسر حیران کن قرار دیا۔

انہوں نے امریکی سی این این نیٹ ورک کو دیے گئے بیانات میں کہا کہ حماس کی جانب سے 24 گھنٹے سے بھی کم عرصے میں داغے جانے والے راکٹوں کی تعداد 3000 سے تجاوز کر گئی۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ وضاحت تخیل سے بالاتر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ان کے پاس راکٹوں کی اتنی مقدار موجود ہے اور ہمیں یقینی طور پر امید نہیں تھی کہ وہ اتنے موثر ہوں گے جتنے کل ہوا تھا"۔

فلسطینی بہت اندر تل داخل ہوگئے

انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ حملہ منفرد تھا اور پہلی بار جب فلسطینی عناصر اسرائیل میں گہرائی تک گھسنے اور متعدد دیہاتوں کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ہفتے کی صبح سے ہونے والی میدانی پیشرفت کے علاوہ اسرائیلی افواج کی مشقوں اور غزہ کی پٹی سے کسی بھی زمینی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے جو متعدد منظرنامے تیار کر رہے ہیں۔

گذشتہ برسوں کے دوران اسرائیلی فوج نے کسی بھی زمینی دراندازی، سمندری دراندازی اورہوائی جہاز سے ہونے والے حملوں کا سامنا کرنے کے لیے کئی منظرنامے تیار کیے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی مشقیں کامیاب نہیں ہوئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں