ہمارے پاس قیدیوں کی تعداد اسرائیلی اندازے سے کئی گنا زیادہ ہے: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے عسکری بازو عزالدین القسام بریگیڈ کے ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا ہے غزہ کی سرحد کے ساتھ اسرائیل کی یہودی بستیوں پر حماس کے سرپرائز حملے میں بڑے پیمانے پر اسرائیلیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ابوعبیدہ کے ہفتے کو رات گئے نشر ہونے والے پہلے سے ریکارڈ شدہ آڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ حماس کے زیر حراست قید اسرائیلیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو بیان کر رہے ہیں۔

القسام بریگیڈ کے ترجمان کے مطابق اسرائیلی قیدی غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں رکھے گئے ہیں۔ ’’ان کے ساتھ اہالیاں غزہ جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔‘‘

اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے اتوار کے روز بتایا کہ صہیونی فوج اور پولیس نے غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع اسرائیلی بلدیات میں یرغمال بنائے گئے کئی قیدیوں کو رہا کروا لیا ہے۔

اتھارٹی نے وضاحت کی اسرائیل فوج نے اوفاکیم بلدیہ میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہری کو چھڑوا لیا ہے اور انہیں کئی گھنٹے قید میں رکھنے والے مسلح جنگجو ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ براڈکاسٹنگ سروس نے ایک مقامی فارم ہاؤس میں واقع ریستوران کے اندر قید 60 اسرائیلیوں کو بھی رہا کروا لیا ہے۔

اتھارٹی نے بتایا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کی جانے والی عبیدیم کے علاقے میں ایک علاحدہ کارروائی میں تین اسرائیلی فوجیوں زخمی ہوئے۔

قبل ازیں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے العربیہ کو بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ لڑائی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ہم اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی کا معاملہ چکتا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم فی الحال حماس کے زیر حراست اسرائیلیوں کی تعداد ظاہر نہیں کر رہے ہیں۔

حماس ترجمان نے دعویٰ کیا کہ آپریشن باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی علاقے میں داخلے اور میزائل حملے بھی سوچی سمجھی کارروائی تھے۔ اس آپریشن کے پیشر نکات ہماری منصوبہ بندی کے مطابق چل رہے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ’’جنگ کے علاوہ ہمارا کوئی دوسرا آپشن نہیں۔ ہم تمام ممکنہ منظر ناموں کے لیے تیار ہیں اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے حماس نے ہفتے کی صبح سے اسرائیل کے 53 شہری یرغمال بنائے ہیں جبکہ حماس کا دعوی ہے کہ ان کے 35 فوجی اور صرف ایک یہودی آباد کار قید ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق انہیں غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع یہودی بستیوں میں حالت معمول پر لانے کے لیے کئی گھنٹے درکار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں