فلسطینیوں کو پہلے سے زیادہ خوفناک نکبہ سے دوچار کیا جائے:اسرائیلی کنیسٹ رکن کامطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی پارلیمان کے رکن ایریل کالنر نے حماس کے ہفتہ سے شروع ہونے والے خوفناک حملے کے جواب میں کہا ہے ، وقت آگیا ہے کہ ہم فلسطینیوں پر دوبارہ ایک نکبہ مسلط کریں۔ ایسا نکبہ جس کے بعد وہ 1948 کے یوم نکبہ کو بھول جائیں۔

اسرائیلی کنیسٹ کے رکن کالنر نے یہ مطالبہ ایک ٹویٹ پیغام میں اسرائیلی حکومت سے کیا ہے۔

کالنر نے کہا اس وقت ہمارا ایک ہی ہدف ہونا چاہیے کہ ہم فلسطینیوں کو دوبارہ نکبہ سے دوچار کردیں۔ یہ نکبہ نہ صرف غزہ والوں کے لیے ہونا چاہیے بلکہ ہر ایک کے لیے ہونا چاہیے جو غزہ والوں کے ساتھ اس وقت کھڑا ہو۔ ہمیں اس نکبہ کے ذریعے فلسطینیوں کوخوفناک تباہی سے دوچار کرنا چاہیے۔

واضح رہے نکبہ سے مراد تباہی ہے اور فلسطینی عوام یوم نکبہ اس دن کی یاد میں مناتے ہیں جب 7 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو گھروں کو چھوڑنا پڑا تھا۔ یہ واقعہ 15 مئی 1948 کو پیش آیا تھا جب متنازعہ اسرائیلی ریاست قائم کی گئی تھی۔ فلسطینی ہر سال 15 مئی کو یوم نکبہ مناتے ہیں۔

خیال رہے فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے ہفتہ کے روز اسرائیل پر ایسا حملہ کیا ہے جو حالیہ برسوں کا سب سے بڑا حملہ ہے۔ جس کے نتیجے میں سینکڑوں اسرائیلی ہلاک، ہزاروں زخمی ہوئے ہیں اور درجنوں اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو حماس نے قید کر لیا ہے۔

اس حملے میں نہ صرف ہزاروں راکٹ فائر کیے گئے ہیں بلکہ فلسطینی بندوق بردار بھی اسرائیل کے قبضے والے علاقے میں گھس آئے۔

اسرائیلی ملٹری نے جوابا غزہ پر فضائی حملہ کر کے شدید بمباری کی ہے۔ جس کے نتیجے میں عینی شاہدین کا کہنا کہ جگہ جگہ دھماکے دیکھے اور سنے گئے ہیں۔ بہت سارے لوگوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور بہت سارے زخمی ہوئے ہیں جنہیں ہسپتالوں میں لے جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں