اسرائیل پرحملے میں ملوث نہیں، تل ابیب اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کر رہا ہے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی سے اسرائیلی بستیوں میں گھس کر ہفتے کی صبح فلسطینی دھڑوں کی طرف سے کیے گئے ڈرمائی حملے کی تیاری میں ایران کی مبینہ معاونت سے متعلق اطلاعات سامنے آنے کے بعد تہران نے ان الزامات کو رد کردیا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے "طوفان الاقصیٰ " حملے میں تہران کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا اس کارروائی میں کوئی کردار نہیں۔

قبل ازیں فلسطینی دھڑوں کی طرف سے کہا گیا تھا کہ ایران نے اسرائیل پر فلسطینی عسکریت پسندوں کے حملوں میں معاونت کی تھی۔

کل اتوار کی شام ایک بیان میں ایرانی سفارت کارنے کہا کہ "فلسطینیوں کی طرف سے اٹھائے گئے ٹھوس اقدامات سات دہائیوں کے جابرانہ اسرائیلی قبضے اور ناجائز صیہونی حکومت کے گھناؤنے جرائم کے مقابلے میں ایک مکمل طور پر آئینی دفاع کا حصہ ہیں۔"

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران "غیر متزلزل طور پر فلسطینی قوم کے نصب العین کی حمایت جاری رکھے گا لیکن ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے فلسطینیوں کی طرف سےاسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی‘‘۔

"اسرائیل پر اپنی رسوائی چھپانے کی کوشش کا الزام "

ایرانی سفارت کار نے کہا کہ "حماس کے آپریشن کی کامیابی حیرت انگیز ہے جس نے اسرائیلی سکیورٹی اداروں کی سب سے بڑی ناکامی کا ثبوت پیش کیا ہے۔

انہوں نے کہا "اسرائیلی اپنی ناکامی سےتوجہ ہٹانے کے لیے ایران پر الزام عاید کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسرائیل اپنی شرمناک رسوائی اور شکست پر پردہ ڈالنے کے لیے ایرانی انٹیلی جنس اداروں کو اس کارروائی پر مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کررہا ہے"۔

فلسطینی جنگجو
فلسطینی جنگجو

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق ایرانی عہدیدار نے کہا کہ تل ابیب کو "فلسطینی مزاحمتی گروپ کے ہاتھوں ان کی شکست کے بارے میں انٹیلی جنس سروسز میں جو رپورٹ دی جا رہی ہے اسے قبول کرنا بہت مشکل ہے"۔

قابل ذکر ہے کہ ایران نے حماس اور اسلامی جہاد کی مالی اور عسکری امداد کو کبھی نہیں چھپاپا۔ تہران اعلانیہ فلسطینی عسکری گروپوں کی حمایت اور سرپرستی کرتا رہا ہے۔

ہفتے کے روز اسرائیل کو اس وقت تاریخ کے مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑا جب حیرت انگیز طور پر حماس نے ڈرمائی انداز میں ہزاروں راکٹوں کے ساتھ اسرائیلی بستیوں پر حملہ کردیا۔ اس حملے میں اب تک سات سو سے زاید اسرائیلی ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج کی غزہ پر شدید بمباری میں چار سو سے زاید فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ فلسطینیوں نے ایک سو سے زاید اسرائیلیوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں