اسرائیل پر اچانک حملے میں ایران نے حماس کی مدد کی تھی: حماس اور حزب اللہ کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین میں حماس نے اسرائیل کے خلاف شروع کیے گئے ’طوفان الاقصیٰ‘ آپریشن کے دوران فلسطینی عسکریت پسندوں اور اسرائیلی افواج کے درمیان جاری جھڑپوں کے جلو میں ایرانی کردار کا ایک نیا انکشاف ہوا ہے۔

سبز روشنی اور بیروت میں ایک میٹنگ

حماس اور لبنانی حزب اللہ کے سینیر ارکان کے مطابق انکشاف ہوا ہے کہ ایرانی سکیورٹی حکام نے ہفتے کے روز حماس کی طرف سے اسرائیل پر کیے گئے اچانک حملے کی منصوبہ بندی میں مدد کی تھی۔ امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق گذشتہ پیر کو بیروت میں ہونے والی ایک میٹنگ میں اس کارروائی کے لیے ایران نے گرین سگنل دیا تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے افسران نے گذشتہ اگست سے حماس کے ساتھ مل کر فضائی، زمینی اور سمندری دراندازی کی منصوبہ بندی کی تھی، جو کہ 1973 کے بعد اسرائیل کی سرحدوں کی سب سے اہم خلاف ورزی ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ آپریشن کی تفصیلات کو بیروت میں ہونے والی متعدد میٹنگوں کے دوران بہتر بنایا گیا جس میں ایرانی پاسداران انقلاب کے افسران اور چار ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروپوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ان میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ بھی شامل ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے ان ملاقاتوں کی طرف اشارہ کیا ہے تاہم ان کا ملک فی الحال اس کی تصدیق نہیں کرسکا ہے۔

جنگ میں داخلے کا سرکاری اعلان

یہ بات قابل ذکر ہے کہ فلسطینیوں کی اس کارروائی سے اسرائیل کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے، جس کی وجہ سے اسرائیلی حکومت نے "سرکاری طور پر حالت جنگ میں داخل ہونے" کا اعلان کیا ہے۔

6 اکتوبر 1973 کی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے اس "ریاست کی سطح پر جنگ" کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں